.

منی لانڈرنگ کیس:الطاف حسین کی ضمانت میں تین ماہ کی توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے لندن میں خودساختہ جلاوطن قائد الطاف حسین کی منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت میں مزید تین ماہ کے لیے توسیع کردی گئی ہے۔

الطاف حسین لندن کے ساؤتھ ورک پولیس اسٹیشن میں سوموار کو پیش ہوئے تھے جہاں ان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت میں توسیع کے معاملے کی سماعت کی گئی۔اس موقع پر ان کے قریبی معاونین محمد انور ،بیرسٹر سیف اور فاروق ستار بھی ان کے ہمراہ تھے۔کیس کی سماعت کے بعد انھیں پانچویں مرتبہ ضمانت میں توسیع دی گئی ہے۔

لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف جولائی 2013ء میں منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور انھیں پولیس نے اس مقدمے میں 3 جون 2014ء کو گرفتار کیا تھا لیکن انھیں خرابیِ صحت کی بنا پر ولنگٹن اسپتال منتقل کردیا گیا تھا جہاں ان کی اینجیو گرافی ہوئی تھی اور دوسرے ٹیسٹ کیے گئے تھے۔

اسپتال سے فراغت کے بعد الطاف حسین کو دوبارہ ساؤتھ ورک پولیس اسٹیشن لے جایا گیا تھا جہاں ان سے پولیس نے نو گھنٹے تک منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں پوچھ تاچھ کی تھی۔انھیں چار روز کے بعد ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔اس کے بعد چار مرتبہ ان کی ضمانت میں توسیع کی گئی تھی اور اب پانچویں مرتبہ توسیع کی گئی ہے۔

یادرہے کہ الطاف حسین 1992ء سے برطانیہ میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ تب کراچی میں لسانی بنیاد پر خونریزی کے خاتمے کے لیے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد بھاگ کر لندن چلے گئے تھے اور انھوں نے 2002ء میں برطانوی شہریت حاصل کر لی تھی۔ان کے خلاف اس وقت لندن میں ایم کیو ایم کے بانی رکن ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرانے اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں تحقیقات کی جارہی ہے۔برطانوی پولیس نے 2012ء اور 2013ء میں لندن کے علاقے ایجوئیر روڈ پر واقع ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا اور وہاں سے لاکھوں پاؤنڈز کی نقدی اور بعض حساس دستاویزات برآمد کی تھیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق پولیس نے 6 دسمبر 2012ء کو ان کی رہائش گاہ سے ڈھائی لاکھ پاؤنڈز برآمد کیے تھے اور اس رقم کی بنیاد پر ان کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ برطانوی قانون کے تحت انھیں اس مقدمے میں چھے ماہ سے دس سال تک قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔اگر ان کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی سازش میں ملوّث ہونے کا الزام بھی ثابت ہوجاتا ہے تو اس کی انھیں الگ سے سزا بھگتنا پڑَے گی۔

پاکستانی حکام نے 2015ء کے دوران عمران فاروق قتل کیس میں ملوّث ہونے کے شُبے میں تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔تین ماہ قبل دو ملزموں محسن علی اور خالد شمیم کو فرنٹیئر کور نے صوبہ بلوچستان کے افغانستان کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے سے گرفتار کیا تھا۔تیسرے ملزم معظم علی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی سے گرفتار کیا تھا۔اس ملزم پر الزام ہے کہ اس نے محسن اور ایک اور مشتبہ شخص کاشف کے لیے برطانیہ کے ویزے اور ٹکٹ کا بندوبست کیا تھا۔کاشف کے اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔البتہ ایک یہ بھی افواہ ہے کہ وہ مرچکا ہے۔

حکومت نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ایک ٹیم کو ستمبر میں پاکستان میں ان تینوں ملزموں تک رسائی دی تھی اور اس نے اپنی تفتیش مکمل کر لی تھی۔تاہم وزارت داخلہ کے مطابق ان مشتبہ افراد کو برطانیہ کے حوالے کرنے سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

پیرا ملٹری فورس رینجرز اس وقت کراچی میں الطاف حسین کی جماعت کے جرائم پیشہ عناصر اور دوسرے شرپسندوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔رینجرز نے گذشتہ مہینوں کے دوران کراچی کے علاقے عزیز آباد میں واقع ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹرز نائن زیرو پر بھی چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں۔