.

سابق گورنر پنجاب کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت برقرار

عدالتِ عظمیٰ کا اے ٹی ایکٹ کی شق 7 کو دوبارہ فیصلے میں شامل کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 9 مارچ کے فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت ممتاز قادری کو سنائی گئی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا تھا لیکن انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی شق سات کو کالعدم قرار دینے کے لیے مجرم کی درخواست منظور کر لی تھی۔

عدالت عظمیٰ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی تین رکنی بنچ نے ممتاز قادری کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں نذیر اختر اور وفاقی حکومت کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائرکردہ الگ الگ اپیلوں کی سماعت کی ہے اور وفاقی حکومت کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے مجرم کے خلاف دہشت گردی کے الزام میں فردجرم کو فیصلے میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ ممتاز قادری کی سزا میں کمی کے لیے اپیل کو مسترد کردیا ہے۔اب وہ صدرپاکستان سے رحم کی اپیل کرسکتے ہیں۔ اگر صدر ممنون حسین رحم کی اپیل مسترد کردیتے ہیں تو پھر مجرم کو تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا۔

عدالتِ عظمیٰ میں اپیل کی سماعت کے دوران مجرم کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کا موکل بالکل سیدھا سادھا آدمی ہے اور اس کے پاس سابق گورنر کو قتل کرنے کا جواز موجود تھا۔وکیل نے تسلیم کیا کہ مجرم نے جو کچھ کیا،وہ قرآن وسنت کی تعلیمات کے عین مطابق تھا اور اس کو پختہ یقین تھا کہ مقتول نے توہینِ رسالت کے قانون کو کالاقانون قرار دے کر توہین رسالت کا ارتکاب کیا تھا۔

بنچ کے رکن جسٹس دوست محمد خان نے ان دلائل پر اپنے ریمارکس میں کہا کہ ''ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ مقتول سلمان تاثیر نے درحقیقت توہینِ رسالت کا ارتکاب کیا تھا یا اس کے برعکس انھوں نے توہینِ رسالت کے قانون کے اثرات پر تبصرہ کیا تھا''۔

انھوں نے کہا کہ ''کیا مجرم کو یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ ازخود فیصلہ کرتے ہوئے پولیس کی وردی میں ایک ایسے شخص کا قتل کردے جس کی وہ حفاظت پر مامور ہے۔خاص طور پر اس لیے بھی کہ جب اس کے پاس چند ایک اخباری بیانات کی کلپنگ کے سوا کوئی ثبوت بھی نہیں تھا''۔انھوں نے توہین رسالت یا توہین مذہب جیسے معاملات میں ضبط وتحمل سے کام لینے کی ضرورت پر زوردیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر ہر کوئی شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کردے گا اور توہینِ رسالت جیسے حساس معاملات پر عدالت میں جانے کے بجائے ازخود ہی اقدام کرنے لگے گا تو کیا اس سے معاشرے میں خوف وہراس نے پھیل جائے گا۔

اسلام آباد کے جڑواں شہر راول پنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ممتاز قادری کو اکتوبر 2011ء میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ(اے ٹی اے) کی شق 7 کے تحت سلمان تاثیر کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔ان کے وکلاء نے اُسی ماہ انسداد دہشت گردی عدالت کے اس فیصلے کو دو درخواستوں کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

ان میں سے ایک درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ممتاز قادری کی سزائے موت کالعدم قرار دی جائے اور دوسری میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شق سات کو سزا کے فیصلے میں کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے 9 مارچ 2015ء کے فیصلے میں تعزیرات پاکستان کے تحت مجرم کو سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دینے کے لیے اپیل مسترد کردی تھی لیکن ان کی اے ٹی اے کی شق سات کو کالعدم قرار دینے کے لیے درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی تھی۔ ممتاز قادری کے وکلاء نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی بعض دینی جماعتیں اور وکلاء کا ایک طبقہ ممتاز قادری کو سنائی گَئی پھانسی کی سزا کی مخالفت کررہا ہے اور ان کی سزا ختم کرکے انھیں رہا کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔ممتاز قادری پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کا سابق کمانڈو تھا۔اس نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس میں واقع کوہسار مارکیٹ میں 4 جنوری 2011ء کو سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا اور عدالت میں مقدمے کی سماعت کے وقت اپنے جرم کا اقرار کیا تھا۔ مقتول گورنر پنجاب توہین رسالت سے متعلق قانون کے سخت ناقد تھے اور انھوں نے توہین رسالت کی ایک عیسائی مجرمہ سے جیل میں بھی ملاقات کی تھی۔مجرم ممتاز قادری کا کہنا تھا کہ سلمان تاثیر گستاخ رسول تھے اور اسی وجہ سے اس نے انھیں قتل کیا تھا۔