.

شیوسینا کی دھمکیاں: وسیم اور شعیب کی بھارت سے واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا کی دھمکیوں کے بعد پاکستان سے تعلق رکھنے والے دو تبصرہ نگار وسیم اکرم اور شعیب اختر وطن واپسی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ایک روز پہلے عالمی کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ ایمپائر علیم ڈار کو بھی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

علیم ڈار بھارت اور جنوبی افریقا کے درمیان جاری ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سیریز میں ایمپائر کے فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ سابق ٹیسٹ کرکٹرز وسیم اکرم اور شعیب اختر ان میچوں پر رواں تبصرے کے لیے بھارت میں موجود ہیں۔ان تینوں کو انتہا پسند سیاسی گروپ شیو سینا کی جانب سے دھمکیاں دی گئی تھیں۔

وسیم اکرم کے ایجنٹ ارسلان حیدر نے کرک انفو ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ بھارتی شہر چینائی میں میزبان ٹیم اور مہمان جنوبی افریقا کے درمیان 23 اکتوبر کو چوتھے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچ پر رواں تبصرے کے بعد سابق پاکستانی کپتان وطن لوٹ جائیں گے۔وہ شعیب اختر کے ساتھ اسٹار اسپورٹس ٹی وی چینل کی کومنٹری ٹیم میں شامل ہیں۔

دونوں ٹیموں کے درمیان پانچواں ایک روزہ میچ 25 اکتوبر کو ممبئی میں کھیلا جائے گا۔یہ شہر شیوسینا کا گڑھ ہے اور یہ جماعت ماضی میں اس شہر میں پاکستانی کھلاڑیوں کے کھیلنے یا کرکٹ عہدے داروں کے بھارتی عہدے داروں سے ملاقاتوں کے لیے آنے پر پُرتشدد احتجاج کرچکی ہے۔

بھارت کا تجارتی شہر ممبئی ریاست مہاراشٹر کا دارالحکومت ہے اور اس ریاست میں مرکزی حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی ہی کی حکومت ہے مگر اس کا شیوسینا کے انتہا پسندوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور وہ آزادانہ بھارتی سیکولرازم کے چہرے پر کالک مل رہے ہیں۔

شیوسینا کی جانب سے پاکستان مخالفت کا نیا ڈراما گذشتہ سوموار کو شروع ہوا تھا جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین شہریار احمد خان بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ شیشانک منوہر سے ممبئی میں ملاقات کے لیے آئے تھے۔تب شیو سینا کے انتہا پسندوں نے بی سی سی آئی کے ہیڈ کوارٹرز پر دھاوا بول دیا تھا۔انھوں نے پی سی بی کے سربراہ کے دورے کے خلاف احتجاج کیا تھا اور پاکستان کی مخالفت میں نعرے بازی کی تھی۔