.

''پاکستان ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں پر قدغن قبول نہیں کرے گا''

امریکا کی پاکستان کو 8 ایف 16 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف امریکا کے دورے پر ہیں اور وہ آج جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کرنے والے ہیں۔اس ملاقات کا ایجنڈا کیا ہوگا،اس حوالے سے بعض پاکستانی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ امریکی صدر پر یہ واضح کریں گے کہ پاکستان چھوٹے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر قدغنیں قبول نہیں کرے گا۔

پاکستان کا یہ موقف ہے کہ چھوٹے ہتھیار ہمسایہ ملک بھارت کے کسی جارحانہ حملے کی صورت میں سد جارحیت کا کام کرسکتے ہیں مگر امریکا کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ ان چھوٹے ہتھیاروں سے خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے کیونکہ ان کے چھوٹے حجم کی وجہ سے انھیں روایتی ہتھیاروں کے ساتھ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اوباما انتظامیہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں تشویش کے باوجود اس کو آٹھ ایف 16 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی تیاری کررہی ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنایا جاسکے۔

نیویارک ٹائمز میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس پاکستان کو ان لڑاکا جیٹ کی فروخت کا سودا بلاک بھی کرسکتی ہے۔تاہم اگر کانگریس اس کی منظوری دے بھی دیتی ہے تو یہ ایک علامتی اقدام ہوگا کیونکہ پاکستان کے پاس پہلے ستر لڑاکا ایف سولہ طیاروں پر مشتمل ایک فلیٹ موجود ہے۔

امریکا پاکستان سے یہ مطالبہ کررہا ہے کہ وہ ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کو استعمال نہ کرنے کا پختہ وعدہ کرے جبکہ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے اختیارات(آپشنز) کھلے رکھنا چاہتا ہے تاکہ بھارت کے کسی ممکنہ جارحانہ حملے کی صورت میں سدِّ جارحیت کا کام دے سکیں۔

پاکستان کا یہ بھی مؤقف ہے کہ امریکا اس سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے غیرمنطقی مطالبہ کررہا ہے۔اس کے بدلے میں وہ اس کو جوہری ٹیکنالوجی دینے کا ایک مبہم سا وعدہ کررہا ہے جبکہ بھارت کے ساتھ جوہری شعبے میں تعاون کو بڑھا رہا ہے۔

پاکستان کے ایک سکیورٹی عہدے دار کا کہنا ہے کہ ''ہمارے جوہری پروگرام کا مرکزی نکتہ بھارت ہے۔یہ جنگ کو روکنے کے لیے ہے اور ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں نے جنگ کے اس دروازے کو مکمل طور پر بند کررکھا ہے،کوئی بھی ہمیں یہ ڈکٹیٹ نہیں کراسکتا کہ ہم کس طرح کے ہتھیار بنائیں گے اور کیسے انھیں استعمال کریں گے۔''

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ''پاکستان جوہری ہتھیاروں سے لیس ایک آبدوز بنانے پر بھی کام کررہا ہے۔اس کا مقصد سمندر سے جوہری حملے کی دوسری صلاحیت کا حصول ہے''۔وہ ایک سب میرین کی تیاری کا حوالہ دے رہے تھے جو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہوگی اور زمین پر جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی صورت میں سمندر سے حملہ کرسکے گی۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بدھ کو واشنگٹن میں وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ان کے درمیان گفتگو کی تفصیل کے حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا ہے کہ آیا امریکا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کو محدود کرنے کے حوالے سے بھی کوئی بات کی گئی ہے یا نہیں۔

مسٹر کربی نے اپنی معمول کی نیوز بریفنگ میں کہا کہ ''پاکستان جوہری سکیورٹی کے ایشو پرعالمی برادری کے ساتھ رابطے میں رہا ہے۔ہمیں یہ یقین ہے کہ وہ جوہری سلامتی سے متعلق ایشوز کی اہمیت کو سمجھتے ہیں''۔