.

افغان طالبان مذاکرات کی میزپر آجائیں: پاکستان ،امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما اور پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے افغان طالبان پر زوردیا ہے کہ وہ صدر اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ دوبارہ امن مذاکرات کا آغاز کریں۔

یہ بات دونوں لیڈروں کے درمیان وائٹ ہاؤس ،واشنگٹن میں ملاقات کے بعد جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہی گئی ہے۔اس میں دونوں ملکوں کے درمیان طویل شراکت داری اور تعلقات کو سراہا گیا ہے۔اس سے پہلے میاں نواز شریف کی وائٹ ہاؤس آمد پر ان کا شاندار خیرمقدم کیا گیا اور انھوں نے صدر اوباما سے خوشگوار ماحول میں ملاقات کی ہے۔

مشترکہ بیان میں افغان طالبان کی قیادت پر زوردیا گیا ہے کہ وہ کابل حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کریں اور اپنے ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کام کریں۔وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ملاقات کے دوران صدر اوباما نے کہا کہ پاکستان کو امن مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کرنے والے گروپوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔انھوں نے علاقائی امن، سلامتی اور پاکستان کے افغانستان میں مصالحتی عمل میں کردار کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

اوباما،شریف ملاقات میں طرفین نے لشکرطیبہ سمیت تمام دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی سے اتفاق کیا ہے۔ بیان کے مطابق پاکستان نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک سمیت تمام طالبان گروپوں میں سے کوئی بھی پاکستان کی سرزمین سے افغانستان میں کارروائیاں نہیں کرے گا۔

صدر اوباما نے پاکستان پر یہ بھی زوردیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو ترقی دینے سے گریز کرے جس سے کہ خطے میں خطرات اور عدم استحکام میں اضافہ ہوسکتا ہو۔دونوں لیڈروں نے مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے درمیان لائن آف کنٹرول پر تشدد کے حالیہ واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیےایسے اقدامات اور موثر میکانزم کے قیام کی حمایت کا اظہار کیا جو پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے قابل قبول ہو۔

پاکستان کے کردار کی تعریف

وزیراعظم میاں نواز شریف وائٹ ہاؤس کے بعد جمعرات کی شب پینٹاگان میں امریکی وزیردفاع آشٹن کارٹر کے مہمان تھے۔آشٹن کارٹر نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے دہشت گرد گروپوں کے خلاف جنگ میں پاکستان کی نمایاں کامیابیوں کو سراہا ہے۔انھوں نے اس جنگ میں پاکستانی فوج ،قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کو ان کی قربانیوں پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

انھوں نے دہشت گردی کے خلاف قومی سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے پر نوازشریف حکومت کی کوششوں کو بھی سراہا ہے۔اس موقع پر پاکستان کے وزیراعظم نے دونوں ملکوں کے درمیان دفاع کے شعبے میں تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ گذشتہ دو سال کے دوران اس میں اضافہ ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ سکیورٹی کے شعبے میں تعاون سے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

امریکی وزیردفاع سے ملاقات میں وزیراعظم کے قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز، وزیرخزانہ اسحاق ڈار ،وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف،معاون خصوصی طارق فاطمی ،واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی اور سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری بھی موجود تھے۔