.

ای یو،پاکستان میں غیر قانونی تارکین کی بے دخلی پر مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے تارکین وطن سے متعلق امور کے ہائی کمشنر پاکستانی حکام سے بات چیت کے لیے سوموار کو اسلام آباد پہنچے ہیں۔ پاکستان نے گذشتہ ہفتے یورپی ممالک سے بے دخل کیے جانے والے غیر قانونی تارکین وطن کو قبول کرنے سے متعلق سمجھوتا معطل کردیا تھا۔

یورپی یونین کی اسلام آباد میں ترجمان عائشہ بابر نے بتایا ہے کہ یورپی کمشنر برائے مائیگریشن آوارموپولس وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج اور وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان سے اس معاملے پر بات چیت کے لیے ملاقات طے ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کمشنر کا دورہ پہلے سے طے شدہ تھا اور وہ پاکستانی حکام کے حالیہ بیانات کی وجہ سے اسلام آباد نہیں آئے ہیں۔

یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان سنہ 2009ء میں ایک سمجھوتا طے پایا تھا جس کے تحت پاکستان یورپی یونین کے رکن ممالک سے بے دخل کیے گئے غیر قانونی تارکین وطن کو قبول کرتا رہا ہے۔اس کے علاوہ وہ پاکستان سے دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے مگر غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے شہریوں کو بھی واپس قبول کرنے کا پابند تھا۔

لیکن وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے گذشتہ ہفتے یہ سمجھوتا معطل کرنے کا اعلان کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ جو بھی فضائی کمپنیاں ان غیر قانونی تارکین کو پاکستان کی اجازت کے بغیر ملک میں لائیں گی تو ان پر جرمانہ عاید کیا جائے گا۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کسی یورپی ملک سے جنگجو گروپوں سے تعلق کے الزام میں بے دخل کیے گئے کسی غیر قانونی تارک وطن کو بھی واضح ثبوت کے بغیر قبول نہیں کرے گا۔

بعد میں وزارت داخلہ کے ترجمان نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ یورپی یونین کے ساتھ غیر قانونی تارکینِ وطن کی بے دخلی سے متعلق سمجھوتے کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔یورپی یونین نے سرکاری طور پر پاکستان کے اس فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال دنیا کے مختلف ممالک سے قریباً نوے ہزار افراد کو بے دخل کرکے پاکستان بھیجا گیا تھا لیکن ان میں سے بعض کو ان کے پاکستانی شہری ہونے کا تعیّن کیے بغیر ہی واپس بھیج دیا گیا تھا حالانکہ وہ دوسرے ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یورپ سے کتنی تعداد میں پاکستانیوں کو بے دخل کیا گیا تھا۔البتہ یہ اعداد وشمار ہزاروں میں ہوسکتے ہیں۔

یورپ کو اس وقت غیر قانونی طریقوں سے آنے والے تارکین وطن اور مہاجرین کے ایک بڑے بحران کا سامنا ہے اور روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ جنگ زدہ شام ،عراق ،افغانستان اور دوسرے ممالک سے یورپی ممالک کا رُخ کررہے ہیں۔بعض یورپی لیڈر پیرس میں گذشتہ ہفتے دہشت گردی کے حملوں کے بعد سرحدوں پر سخت کنٹرول پر زوردے رہے ہیں۔