.

پاکستانی طالبان کمانڈر سید سجنا امریکی ڈرون حملے میں ہلاک

افغانستان کے مشرقی صوبے خوست میں میزائل حملے میں 11 اور جنگجو مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا سینیر کمانڈر خان سید سجنا افغانستان کے مشرقی صوبے خوست میں امریکا کے ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل میں اپنے گیارہ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بدھ کو پاکستان کے ایک انٹیلی جنس عہدے دار کے حوالے سے خان سید سجنا کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ وہ پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی سرحد کے ساتھ واقع افغان صوبے خوست میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا ہے اور بیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔حملے میں مارے گئے دوسرے گیارہ جنگجوؤں کی فوری طور پر شناخت معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

خوست کے مقامی قبائلی عمائدین نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے مختلف دھڑوں کے اختلافات کے خاتمے کے لیے اجلاس ہورہا تھا۔اس دوران ڈرون نے اجلاس کے شرکاء پر میزائل داغے ہیں۔فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور امریکی حکام نے بھی پاکستانی طالبان کے ایک اہم کمانڈر کی افغانستان میں ہلاکت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ٹی ٹی پی میں شامل محسود دھڑے نے بھی دمِ تحریر خان سید سجنا کی ہلاکت کی خبر کی تردید نہیں کی ہے۔ وہ ٹی ٹی پی میں شامل محسود قبائل سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی قیادت کررہے تھے۔یاد رہے کہ خان سید سجنا نے 2014ء میں ٹی ٹی پی کے سابق امیر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد نئے منتخب کیے گئے مرکزی امیرملّا فضل اللہ کو اپنا قائد تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔انھوں نے طالبان کا اپنا الگ دھڑا بنا لیا تھا اور یہ کہا تھا کہ وہ لڑائی جاری رکھیں گے۔

پاکستان کی سکیورٹی فورسز جون 2014ء سے شمالی وزیرستان میں ٹی ٹی پی اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کے نام سے ایک بڑی کارروائی کررہی ہیں۔پاک فوج نے جون میں آپریشن ضربِ عضب کا ایک سال پورا ہونے پر اطلاع دی تھی کہ شمالی وزیرستان میں فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں قریباً اٹھائیس سو جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

لیکن شمالی وزیرستان کے افغان سرحد کے نزدیک واقع دشوار گذار پہاڑی علاقوں میں ابھی تک ٹی ٹی پی یا دوسرے گروپوں کے جنگجو اپنی خفیہ کمین گاہوں میں موجود ہیں اور وہ سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر گاہے گاہے حملے کرتے رہتے ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب کے بعد ٹی ٹی پی کے بہت سے جنگجو شمالی وزیرستان سے افغانستان چلے گئے تھے اور اب وقفے وقفے سے ان کی امریکی ڈرون حملوں میں مرنے کی خبریں منظرعام پر آتی رہتی ہیں۔