تاشفین 'الھدیٰ' میں بھی زیر تعلیم رہی: ٹیچر مقدس

2012ء میں ڈیرہ غازیخان سے شناختی کارڈ بنوایا، تونسہ کا پتہ درج ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں معذوروں کے سینٹر پر فائرنگ میں ملوث خاتون تاشفین ملک کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ پاکستان میں خواتین کے ایک ہائی پروفائل دینی مدرسے الہدیٰ انسٹی ٹیوٹ کی ملتان شاخ میں زیرِ تعلیم رہیں۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے نے انسٹی ٹیوٹ کی مقدس نامی استانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ 29 سالہ تاشفین ملک نے ملتان میں الہدیٰ انسٹی ٹیوٹ میں تعلیم حاصل کی۔

مقدس کا کہنا تھا کہ الہدیٰ انسٹی ٹیوٹ کے امریکا، متحدہ عرب امارات، ہندوستان اور برطانیہ میں بھی دفاتر موجود ہیں اور یہ اُن خواتین کو تعلیمی سہولیات فراہم کرتا ہے جو اسلام کے قریب آنے کی خواہش رکھتی ہوں۔ مقدس نے بتایا، "کورس 2 سال کا تھا لیکن تاشفین نے اسے مکمل نہیں کیا"۔ ان کا مزید کہنا تھا، "وہ ایک اچھی لڑکی تھی، مجھے نہیں معلوم انھوں نے کیوں انسٹی ٹیوٹ چھوڑا اور ان کے ساتھ کیا ہوا"۔

تاہم متذکرہ استانی نے یہ نہیں بتایا کہ تاشفین نے انسٹی ٹیوٹ میں کب داخلہ لیا، لیکن ملتان کی بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں ان کے ساتھی طلباء کے مطابق تاشفین نے یونیورسٹی ختم ہونے کے بعد وہاں داخلہ لیا، جبکہ یونیورسٹی میں وہ 2007 سے 2013 تک زیر تعلیم رہیں۔

تفصیلات کے مطابق اکیڈمی انتظامیہ کی ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ وہ نہ تو تاشفین کے یہاں زیر تعلیم رہنے کی تصدیق کر سکتی ہیں اور نہ ہی تردید اور وہ اس معاملے پر مینیجمنٹ سے بات کریں گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ "کیلیفورنیا واقعے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اور ہم طالب علموں کے ذاتی اقدامات کے ذمہ دار نہیں ہیں۔"

ادھر تاشفین ملک کے رشتہ داروں نے اس کے اقدام پر شرمساری کا اظہار کیا ہے جبکہ تاشفین کے سابق کلاس فیلوز اور اساتذہ نے تاشفین کو ایک خاموش طبع، مذہبی اور قدامت پسند خیالات کی حامل طالبہ بتایا ہے۔

تاشقین کے چچا اور سابق صوبائی وزیر زراعت ملک احمد علی اولکھ نے بتایا کہ تاشفین وسطی پنجاب کے سب ڈویژن کروڑ لعل عیسن میں پیدا ہوئی جو 1989ء میں سعودی عرب چلی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ تاشفین کے والد گلزار احمد ملک انجنیئر ہیں جو اپنے خاندان سے لاتعلق ہو کر چلا گیا اور مڑ کر نہیں دیکھا نہ کبھی اپنے خاندان کی خوشی غمی میں شریک ہوا۔ ملک احمد علی اولکھ نے بتایا کہ ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ تاشفین نے انتہائی اقدام کیوں اٹھایا، ہمیں یقین نہیں آ رہا، ہم صدمے میں ہیں اور شرمندہ بھی ہیں۔

کیلیفورنیا حملوں کی مشتبہ ملزمہ کے ایک اور انکل اور احمد علی اولکھ کے چھوٹے بھائی ملک عمر علی اولکھ نے کہا ہمارے گلزار ملک کےخاندان کے ساتھ رابطے منقطع تھے اور وہ ہمارے ساتھ تعلق واسطہ نہیں رکھتے تھے۔ تاشفین کے باپ کے ہمسائے محمد جمیل نے بتایا کہ تاشفین کا ایک چچا صوفیانہ کلام گانے والا معروف گلوکار بھی تھا۔ اس نے کہا کہ جو کچھ امریکا میں ہوا، اہم مسلمان سے ایسا کرنے کی توقع نہیں رکھ سکتے۔

درایں اثنا کیلیفورنیا میں معذوروں کے مرکز پرفائرنگ میں مبینہ طورپر ملوث تاشفین ملک کے متعلق معلومات کے لئے تحقیقاتی ادارے ملتان پہنچ گئے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق ایف آئی اے کی ٹیم نے بہائوالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی سے تاشفین ملک کا داخلہ فارم حاصل کیا اور اس کے اساتذہ سے معلومات بھی حاصل کیں۔

ایف آئی اے نے تاشفین ملک کے گھر پرچھاپہ مار کر ضروری سامان بھی قبضہ میں لے لیا۔ تاشفین ملک دوران تعلیم اس گھر میں رہائش پذیر تھی۔ اہل علاقہ کے مطابق تاشفین کے اہلخانہ کب آتے اور کب جاتے ہیں اس حوالے سے کوئی علم نہیں۔ تاشفین کے والد کا تعلق لیہ کے علاقے کروڑ کے محلہ شیخاں والا وارڈ 13 سے تھا۔ تاشفین کے والد ملک گلزار احمد تقریباً 30 سال قبل اہل خانہ کے ہمراہ سعودی عرب منتقل ہو گئے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقاتی اداروں نے لیہ اور ڈیرہ غازی خان میں بھی چھاپے مارے ہیں۔ تاشفین ملک ولد گلزارملک کے ووٹ کا اندراج ڈیرہ غازی خان کے نواحی علاقے کی یونین کونسل نمبر چوبیس میں ہے۔ نجی ٹی وی 'دنیا' کے مطابق تاشفین ملک نے 16 فروری 2012ء کو نیا شناختی کارڈ بنوایا، جس کی تاریخ تنسیخ 16 فروری 2022ء ہے ۔ یہ شناختی کارڈ تاشفین نے دوران تعلیم ڈیرہ غازی خان سے بنوایا تھا۔ ذرائع کے مطابق شناختی کارڈ پر تونسہ کا پتہ اور 13جولائی 1986ء تاریخ پیدائش درج ہے۔

علاوہ ازیں بین الاقوامی میڈیا کے افراد بھی تاشفین ملک کے گھر کے باہر دیکھے جا رہے ہیں۔ تاشفین کے سوتیلے چچا جاوید ربانی اور سوتیلی پھوپھی حفصہ بتول کروڑ لعل عیسن میں رہتے تھے لیکن وہ بھی گھر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ مقامی نیوز چینل 'دنیا' کے مطابق گلزار ملک پچھلے سال آئے تھے۔ چینل نے تاشفین ملک کا ملتان میں گھر بھی ڈھونڈ نکالا جو اس کے والدین نے ایم ڈی چوک پر دس سال پہلے خریدا تھا۔ تاشفین پاکستان آمد پر یہیں قیام کیا کرتی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تاشفین تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب پاکستان سے سعودی عرب گئی تو اپنے زیر استعمال کمپیوٹر کا ڈیٹا ضائع کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں