.

اچھے تعلقات کا سندیسہ لیکر پاکستان آئی ہوں: سشما سوراج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج منگل کی شام اسلام آباد پہنچ گئی ہیں۔ وہ افغانستان سے متعلق ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں بھارتی وفد کی قیادت کر رہی ہیں جس میں سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر بھی شامل ہیں۔

پاکستان آمد کے بعد ہوائی اڈے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور آگے بڑھنے کا پیغام لے کر آئی ہیں۔

"یہ کانفرنس کیونکہ پاکستان میں ہو رہی ہے اس لیے مجھ پر یہ لازم بھی ہے اور واجب بھی کہ میں پاکستان کے وزیراعظم نواز صاحب سے ملوں اور اپنے ہم منصب سرتاج صاحب سے ملوں۔ تو دونوں سے میری ملاقات ہو گی اور دونوں ملکوں کے آپسی رشتے اور سدھارنے اور آگے بڑھانے کے بارے میں بات بھی ہو گی۔"

یہ 2012 کے بعد کسی بھارتی وزیر خارجہ کا اسلام آباد کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل کانگریس کے دور اقتدار میں وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے ستمبر 2012 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

سشما سوارج اس سے پہلے 2002 میں بی جے پی کی حکومت میں بھارت کی وزیر اطلاعات کی حیثیت سے پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں۔

یاد رہے کہ 30 نومبر کو پیرس میں موسمیاتی تغیر پر ہونے والی عالمی کانفرنس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے مختصر غیر رسمی ملاقات کی تھی جس کے بعد اتوار کو دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں ملاقات ہوئی۔

بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور ان کے پاکستانی ہم منصب ناصر خان جنجوعہ کے مابین اس ملاقات میں پاکستان اور بھارت کے سیکرٹری خارجہ بھی موجود تھے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق اس کانفرنس میں چین اور ایران سمیت دس ممالک کے وزراء خارجہ بھی شریک ہوں گے جبکہ سترہ ممالک، جو استنبول عمل کی حمایت کر رہے ہیں، ان کے نمائندے بھی کانفرنس میں شریک ہیں۔ ان ممالک میں اکثریت مغربی ممالک کی ہے۔

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر اسلام آباد میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔کانفرنس کے مشترکہ میزبان ملک افغانستان کے صدر اشرف غنی کل (بدھ) کے روز اسلام آباد پہنچیں گے جہاں وہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ مل کر کانفرنس کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔

اس سے قبل پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کانفرنس کے پہلے دن اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ملک افغانستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے کیونکہ افغانستان میں عدم استحکام پاکستان کے مفاد میں نہیں۔