کرم ایجنسی : پارا چنار میں بم دھماکا، 22 افراد جاں بحق

لشکر جھنگوی العالمی نے بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے انتظامی صدر مقام پارا چنار میں کپڑے کی ایک مارکیٹ میں بم دھماکے میں بائیس افراد جاں بحق اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

افغان سرحد کے نزدیک واقع پارا چنار کے بازار میں اتوار کو بم دھماکے کے وقت بڑی تعداد میں لوگ خریداری کے لیے موجود تھے اور وہ سردیوں کے لیے استعمال شدہ اور لنڈے کے کپڑوں کی خریداری میں مصروف تھے۔

پچپن زخمیوں کو پارا چنار کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے اور اسپتال میں واقعے کے بعد ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ زخمیوں میں پندرہ کی حالت نازک ہے جس کے پیش نظر مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

کالعدم گروپ لشکرِ جھنگوی العالمی نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔اس کے ترجمان علی ابو سفیان نے ایک ای میل میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تنظیم نے یہ بم دھماکا کیا ہے۔انھوں نے پاراچنار کے لوگوں کو شام میں جاری جنگ میں شرکت کے لیے اپنے بچوں کو بھیجنے پر انتباہ جاری کیا ہے۔

سکیورٹی فورسز نے بم دھماکے کے فوری بعد علاقے کا محاصرہ کر لیا اور وہ بم کی نوعیت کے بارے میں تحقیقات کررہے ہیں۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ یہ دھماکا خودکش حملے کا نتیجہ ہے یا بم کو ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا ہے۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ یہ ٹائم ڈیوائس بم تھا اور دھماکے کے لیے تیس سے پینتیس کلو گرام بارود استعمال کیا گیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق بم بازار میں کسی جگہ نصب کیا گیا تھا اور دو مشتبہ افراد کو بم دھماکے کی جگہ سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف ،وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان ،وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے دہشت گردی کے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ کرم ایجنسی فاٹا میں سب سے حساس قبائلی علاقوں میں سے ایک ہے ۔اس کی سرحدیں افغانستان کے تین صوبوں سے ملتی ہیں اور اسی کے سرحدی علاقے سے جنگجو آرپار آمد ورفت میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔کرم ایجنسی میں پہلے بھی متعدد بم دھماکے ہوچکے ہیں اور اس علاقے میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بھی عام ہیں۔یہ ایجنسی شورش زدہ شمالی وزیرستان کے ساتھ واقع ہے جہاں گذشتہ ڈیڑھ سال سے پاکستان کی مسلح افواج آپریشن ضرب کے نام سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کے خلاف بڑی کارروائی کررہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں