شہید بچوں کے خون کی ہر بوند کا انتقام لینے کا عزم

وزیراعظم میاں نواز شریف کا اے پی ایس شہداء یونیورسٹی کے قیام کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان بھر میں آج آرمی پبلک اسکول پشاور (اے پی ایس) کے شہداء کی پہلی برسی اس عزم کی تجدید کے ساتھ منائی گئی ہے کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا اور شہید بچوں کے خون کی ہر بوند کا دہشت گردوں سے انتقام لیا جائے گا۔

اے پی ایس کے شہداء کی پہلی برسی کی سب سے بڑی تقریب آرمی پبلک اسکول پشاور میں منعقد ہوئی ہے۔اس میں وزیراعظم میاں نواز شریف ،چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ ،چئیرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل راشد محمود اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت ملک کی اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت شریک تھی۔

اس موقع پر وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں اے پی ایس پر گذشتہ سال دہشت گردوں کے حملے کو ایک ایسا واقعہ قرار دیا جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔انھوں نے 16 دسمبر کو قومی تعلیمی عزم کے دن کے طور پر منانے اور اے پی ایس شہداء یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اے پی ایس پر حملے کے بعد ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت مل بیٹھی تھی اور اس نے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے قومی ایکشن پلان تشکیل دیا تھا۔انھوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے سیاسی قیادت کے تعاون کا شکریہ ادا کیا جس کی بدولت آئین میں ترامیم ممکن ہوئی تھیں۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ''ہماری بہادر افواج سکیورٹی اور سول ادارے دہشت گردی کے خلاف مشن میں یک جا ہوئے اور آپریشن ضرب عضب نے (شمالی وزیرستان میں) دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور ہمارے بچوں کا خون دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بول رہا ہے''۔

انھوں نے شہید بچوں کو مخاطب کرکے کہا کہ ''ہم آپ کے خون کی ہر بوند کا انتقام لیں گے''۔انھوں نے کہا:''میری تمنا ہے کہ ہم جب بھی ان بچوں اور ان کے اساتذہ کی قربانیوں کا ذکر کریں تو ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ہمیں پاکستان سے جہالت کے اندھیروں کا خاتمہ کرنا ہے''۔

اس موقع پر وزیراعظم میاں نواز شریف اور چئیرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل راشد محمود نے اے پی ایس کے شہداء کے خاندانوں میں میڈل اور پلاٹوں کے کاغذات تقسیم کیے۔قبل ازیں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے آرمی پبلک اسکول کے بیرونی دروازے پر شہداء کے خاندانوں کا خیرمقدم کیا۔

متاثرہ خاندانوں نے دہشت گردوں کے حملے میں جان کی بازی ہارنے والے اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھا کر پریڈ کی۔اس موقع پر شہداء کو تمام شرکاء نے بھرپور انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔ پشاور میں شہداء کی برسی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور چیک پوسٹوں پر دو ہزار سے زیادہ اضافی پولیس اہلکار تعینات تھے۔

آرمی پبلک اسکول کے شہداء کی پہلی برسی کے موقع پر ملک کے چاروں صوبوں میں تمام نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں عام تعطیل تھی اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تقریبات منعقد کی گئیں۔ان میں دانش وروں ،اساتذہ اور طلبہ وطالبات نے اپنے اپنے انداز میں اظہار خیال کرتے ہوئے دہشت گردی کے اس اندوہ ناک واقعے کی مذمت کی اور دہشت گردوں کے سامنے سینہ سپر ہونے اور ملک کو اس لعنت سے پاک کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

یادرہے کہ 16 دسمبر 2014ء کو دن دہاڑے پشاور میں پاک آرمی کے زیر انتظام اسکول پر مسلح دہشت گردوں کے حملے میں ایک سو بتیس بچوں سمیت ایک سو چالیس سے زیادہ افراد شہید ہوئے تھے ۔ان میں سے زیادہ تر کو قریب سے انتہائی سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سروں میں گولیاں ماری گئی تھیں۔سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرکے اسکول ہی میں تمام سات دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے دہشت گردی کے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس حملے میں ملوّث ہونے کے الزام میں افغانستان کی سکیورٹی فورسز نے پانچ مشتبہ طالبان کمانڈروں کو گرفتار کیا تھا۔ان پانچوں ملزمان کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ آرمی پبلک اسکول پرحملے کے منصوبہ ساز اور رابطہ کار تھے۔

پاکستان کے طاقتور سراغرساں ادارے انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے واقعے کے بعد افغانستان کا دورہ کیا تھا اور افغان حکام کو ٹی ٹی پی کے کمانڈروں کے پشاور حملے میں ملوّث ہونے سے متعلق اہم انٹیلی جنس معلومات فراہم کی تھی اور ان کی مدد سے ہی ان کو پکڑا گیا تھا۔ان میں سے بعض کو چند روز قبل کیفر کردار کو پہنچا دیا گیا ہے اور انھیں فوجی عدالتوں سے سزائے موت ملنے کے بعد تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں