.

کراچی : پولیس کو داعش کی مالی معاون خواتین کی تلاش !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس سخت گیر جنگجو گروپ دولتِ اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے لیے عطیات جمع کرانے والی خواتین کے نیٹ ورک کی تلاش میں ہے۔

صوبہ سندھ کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے سربراہ راجا عمر خطاب نے بتایا ہے کہ پولیس نے اس سال مئی میں ایک بس پر مسلح افراد کے حملے میں مالی معاونت کرنے والے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے اور اس کے بعد وہ داعش کے لیے رقوم اکٹھی کرنے والی خواتین کی تلاش کررہی ہے۔

واضح رہے کہ داعش نے کراچی کے علاقے صفورا گوٹھ میں اسماعیلی شیعوں کی بس پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی اور یہ اس ملک میں اس جنگجو گروپ کا پہلا حملہ تھا۔

عمرخطاب نے بتایا ہے کہ گذشتہ ہفتے گرفتار کیے گئے مشتبہ شخص عادل مسعود بٹ نے دوران تفتیش اعتراف کیا تھا کہ اس کی بیوی نے شہر میں الذکرہ اکیڈیمی کے نام سے ایک مذہبی تنظیم قائم کررکھی تھی مگر اس اکیڈیمی کا کوئی تنظیمی ڈھانچا یا دفتر نہیں تھا۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ''اچھے کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھنے والی بیس خواتین کے ایک گروپ میں یو ایس بی تقسیم کی گئی تھی۔اس میں داعش کی ویڈیوز تھیں اور داعش کی حمایت میں تبلیغ بھی کی گئی تھی۔اس کے علاوہ اس گروپ کے پیروکار کی شادیوں کا بھی انتظام کیا جاتا تھا''۔

ان کا کہنا ہے کہ ''یہ گروپ اسلامی خیرات کے نام پر دہشت گردوں کے لیے رقوم اکٹھی کرتا تھا۔حملے کے مرکزی مشتبہ ملزم سعدعزیز کی بیوی اور ساس بھی اس نیٹ ورک کا حصہ تھیں''۔

سعد عزیز پاکستان میں بزنس کی تعلیم کے ایک اعلیٰ ادارے کا فارغ التحصیل ہے ۔اس پر پولیس نے صفورا گوٹھ میں بس پر حملے اور اپریل میں انسانی حقوق کی ایک معروف کارکن سبین محمود کے قتل میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔اس کو مئی میں گرفتار کیا گیا تھا۔عمر خطاب کا کہناہے کہ اب ان خواتین کا سراغ لگانے اور ان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

یادرہے کہ گذشتہ سال کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے بعض کمانڈروں اور چھوٹے گروپوں نے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ساتھ وابستگی کا اظہار کیا تھا اور داعش کے خلیفہ ابوبکر بغدادی کی بیعت کا بھی اعلان کیا تھا۔

تاہم ان دھڑوں نے اپنے طور پر ہی داعش کے خلیفہ کی بیعت کی تھی اور داعش نے باضابطہ طور پر اس بیعت کو قبول نہیں کیا تھا جبکہ ایک روز پہلے ہی ٹی ٹی پی نے ابوبکر البغدادی کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔داعش کی بیعت کرنے والے متعدد پاکستانی طالبان جنگجو افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں حالیہ مہینوں کے دوران امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں میں مارے جاچکے ہیں۔