مردان میں طالبان گروپ کا بم دھماکا، 26 افراد جاں بحق

جماعت الاحرار نے نادرا کے دفتر کے باہر بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے دفتر کے باہر بم دھماکے میں چھبیس افراد جاں بحق اور کم سے کم ساٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بتایا ہے کہ مردان میں چارسدہ روڈ پر واقع نادرا کے دفتر کے باہر منگل کے روز بم دھماکے کے وقت بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے اور وہ قومی شناختی کارڈ کے حصول کے لیے درخواست دینے کی غرض سے قطاروں میں کھڑے تھے۔انھوں نے بم دھماکے میں اکیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن ٹی ٹی پی کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی نے ایک بیان میں مردان میں بم حملے سے اپنے گروپ کی لاتعلقی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ ''عوامی مقامات پر بم دھماکوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے''۔

بم دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔مردان ڈویژن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس سعید وزیر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا اور بمبار نے نادر کے دفتر کے باہر خود کو دھماکے سے اڑایا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ نادرا کے دفتر کے باہر تعینات ایک سکیورٹی گارڈ نے گیٹ پر خودکش بمبار کو روک لیا تھا جس کے بعد اس نے اپنی جیکٹ دھماکے سے اڑا دی ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ خودکش حملہ آور ایک موٹر سائیکل پر سوار تھا اور اس نے موٹر سائیکل کو گیٹ سے ٹکڑا کر دھماکا کیا ہے۔

یہ بھی اطلاع سامنے آئی ہے کہ بم موٹر سائیکل کے ساتھ نصب تھا۔اس کو نادرا کے دفتر کے باہر کھڑا کیا گیا تھا اوراس کو ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا ہے۔اس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا جس سے نادرا عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور اس کی کھڑکیوں اور دروازوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں

واقعے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے علاقے کا گھیراؤ کر لیا ہے۔لاشیں اور زخمیوں کو مردان میڈیکل کمپلیکس میں منتقل کردیا گیا ہے۔شہر کے تمام اسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کردی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں