.

پاکستان: 9 سخت گیر دہشت گردوں کو پھانسی دینے کی تیاری

جنرل راحیل شریف نے فوجی عدالتوں سے سنائی گئی سزائے موت کی توثیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے نو دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی پھانسی کی سزاؤں کی جمعہ کے روز توثیق کردی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں ان مجرموں کو ''سخت گیر دہشت گرد'' قرار دیا ہے۔فوجی عدالتوں نے انھیں راول پنڈی میں پریڈلین مسجد میں بم حملے،ملتان میں انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ہیڈکوارٹرز ،قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور لاہور میں شہریوں کے اغوا اور قتل کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر پھانسی کی سزائیں سنائی تھیں۔

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں ان مجرموں کے بارے میں یہ تفصیل جاری کی ہے:
1۔ محمد غوری ولد جاوید اقبال ۔یہ مجرم کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا ایک فعال رکن تھا اور ٹی ٹی پی کے میڈیا سیل کا انچارج تھا۔یہ پریڈلین مسجد راول پنڈی میں مسجد میں بم دھماکے میں ملوّث تھا۔اس واقعے میں اڑتیس افراد جاں بحق اور ستاون زخمی ہوگئے تھے۔اس نے ایک میجسٹریٹ اور ٹرائل عدالت کے روبرو اپنے جرم کا اقرار کیا تھا۔اس کے خلاف چار الزامات میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور فوجی عدالت نے اس کو قصور وار قرار دے کر موت کی سزا سنائی تھی۔

2۔عبدالقیوم ولد امیر محمد ۔ یہ مجرم حرکۃ الجہاد الاسلامی کا ایک فعال رکن تھا۔اس کا پنجاب سے تعلق ہے اور وہ ملتان میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹرز پر حملے میں ملوث تھا۔اس حملے میں سات افراد جاں بحق اور بہتر زخمی ہوگئے تھے۔اس نے میجسٹریٹ اور ٹرائل عدالت کے روبرو اپنے جرائم کا اقرار کیا تھا۔اس کے خلاف سات الزامات میں مقدمہ چلایا گیا ہے اور عدالت نے اس کو قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔

3۔ محمد عمران ولد عبدالمنان ۔ یہ مجرم کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا فعال رکن تھا اور دہشت گردی کی کارروائیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوّث تھا۔اس نے بھی میجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ میں اپنے جرائم کا اقبال کیا تھا۔اس کے خلاف چار الزامات میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔

4۔ احسن محبوب ولد اصغر علی ۔ یہ مجرم القاعدہ کا فعال رکن تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر آتشیں ہتھیاروں سے حملوں میں ملوّث تھا۔ان حملوں میں متعدد فوجی شہید اور زخمی ہوگئے تھے۔اس نے بھی ٹرائل عدالت اور میجسٹریٹ کے روبرو اپنے جرم کا اقرار کیا تھا۔اس کو چار الزامات میں قصور وار قرار دے کر عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔

فوجی عدالتوں نے کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے پانچ مجرموں کو بھی شہریوں پر حملوں اور انھیں قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔ان کے نام یہ ہیں۔عبدالرؤف گجر ولد رحمت علی (مجرم نمبر 1) ،محمد ہاشم ولد محمد عبداللہ (مجرم نمبر2) سلمان ولد بونیر (مجرم نمبر 3) شفقت فاروقی ولد ملک لیاقت علی (مجرم نمبر 4) اور محمد فرحان ولد محمد رفیق (مجرم نمبر 5)

مجرم نمبر ایک کو لاہور میں چار شہریوں سید شاکر علی رضوی ،سید وقار حیدر ،سید ارشد علی اور غلام مصطفیٰ کی ٹارگٹ کلنگ اور دو شہریوں عبدالستار طاہر اور انورحسین کو زخمی کرنے پر آٹھ الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی ہے۔

مجرم نمبر دو سے پانچ ایک شہری غلام مصطفیٰ کے قتل اور انور حسین کو زخمی کرنے کے واقعے میں ملوث تھے۔انھوں نے مجسٹریٹ کی عدالت کے روبرو اپنے جرم کا اقرار کیا تھا۔انھیں چار الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔