.

پاکستان اور سری لنکا میں دوطرفہ تعاون کے 8 سمجھوتے

وزیراعظم میاں نواز شریف سری لنکا کے ساتھ دو طرفہ تعلقات بڑھانے کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دونوں ملکوں کے درمیان کولمبو میں وفود کی سطح پر بات چیت کے بعد صحت، تعلیم، تجارت ،سائنس اور ٹیکنالوجی ،سیاحت ،جیم اور جیولری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں اور سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے کولمبو میں سری لنکن صدر میٹھری پالا سری سینا اور وزیراعظم رابیل وکرما سنگھے کے ساتھ الگ الگ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور خاص طور پر دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے دونوں ملکوں کی بحری افواج کے درمیان شراکت میں اضافے پر بھی بات چیت کی ہے۔

انھوں نے سری لنکا کے ساتھ قریبی فوجی تعلقات استوار کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان سری لنکا کے ساتھ تجارت کے حجم کو ایک ارب ڈالرز سالانہ تک بڑھانا چاہتا ہے اور دونوں ملک منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے بھی مل کر کام کریں گے۔

انھوں نے سری لنکن صدر کی جانب سے اپنے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ''میں نے دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں،بندرگاہوں کے درمیان روابط ،دفاعی سیمی نارز میں شرکت اور فوجی افسروں اور جوانوں کی تربیت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے''۔

میاں نواز شریف نے بات چیت میں سری لنکا کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ سری لنکا میں چینی اور سیمنٹ کی صنعتوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستانی وزیراعظم سوموار کو سری لنکا کے تین روز دورے پر کولمبو پہنچے تھے۔انھوں نے اپنی آمد کے فوری بعد وزیراعظم وکرما سنگھے سے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔وہ بدھ کو بدھ متوں کے مقدس شہر کینڈی جائیں گے اور اس کے بعد وطن لوٹ آَئیں گے۔

سری لنکا اس وقت اپنے فوجی افسروں کو اعلیٰ عسکری تربیت دلانے کے لیے پاکستان اور بھارت بھیج رہا ہے۔ان کے علاوہ امریکا اور چین سمیت مختلف ملکوں میں بھی سری لنکن افسروں کو تربیت کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

واضح ہے کہ پاکستان نے مئی 2009ء میں سری لنکا میں خانہ جنگی کے دوران علاحدگی پسند تامل باغیوں کی بغاوت کو کچلنے کے لیے سری لنکن فوج کو اسلحہ اور لڑاکا طیارے مہیا کیے تھے لیکن اس کے پڑوسی بھارت نے تامل باغیوں کے خلاف جنگ کے عروج کے زمانے میں اسلحہ اور گولہ بارود روک لیا تھا۔تاملوں کے نسلی اور مذہبی طور پر بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔