.

جنرل راحیل شریف مقررہ تاریخ پر ریٹائر ہوجائیں گے

آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل ،لیفیٹینٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے جنرل راحیل شریف کے بطور چیف آف آرمی اسٹاف عہدے میں توسیع سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ نومبر 2016ء میں اپنی معیاد ملازمت پوری کرنے کے بعد مقررہ تاریخ کو ریٹائر ہوجائیں گے۔

سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کا مطالبہ کیا تھا اور انھوں نے فوجی قیادت میں تبدیلی پر خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''جنرل راحیل شریف اس وقت جو کچھ کررہے ہیں،اس کو برقرار رکھنے کے لیے تسلسل کی ضرورت ہے۔اگر اس مرحلے پر عسکری قیادت تبدیل کردی جاتی ہے تو تمام اچھے کام ضائع چلے جائیں گے''۔

ان کے اس مطالبے کے بعد سے آرمی چیف کی مدت میں اضافے کی قیاس آرائیاں جاری تھیں اور بعض سیاست دان بھی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے پیش نظر ان کی مدت میں توسیع کا مطالبہ کررہے تھے۔

لیکن لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے سوموار کے روز تین ٹویٹس کے ذریعے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا ہے اور انھوں نے آرمی چیف کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ''پاکستان آرمی ایک عظیم ادارہ ہے۔میں توسیع میں یقین نہیں رکھتا ہوں اور مقررہ تاریخ کو ریٹائر ہوجاؤں گا''۔

انھوں نے کہا کہ ''(مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق) قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں،دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکمل عزم اور ہمت کے ساتھ کوششیں اسی انداز میں جاری رہیں گی''۔

واضح رہے کہ عسکری ذرائع نے دو ماہ قبل العربیہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو میں بتایا تھا کہ جنرل راحیل شریف اپنی مدت ملازمت میں توسیع لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں اور وہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ جب توسیع کے بعد بھی ایک روز عہدہ چھوڑنا ہے تو کیوں نہ یہ کام بر وقت کردیا جائے اور ایک اچھی مثال اور روایت قائم کی جائے۔

ان ذرائع کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف کے بعد پاک فوج کے سینیر جرنیل اعلیٰ عسکری صلاحیتوں کے حامل ہیں۔اس لیے کسی ایک شخصیت کے جانے سے پاک فوج پر بطور ادارہ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ قومی نوعیت کے فیصلے اجتماعی انداز میں کیے جاتے ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ موجودہ رفتار اور عزم کے ساتھ جاری رکھی جائے گی اور تمام دہشت گردوں کے استیصال تک یہ جنگ جاری رہے گی۔

یاد رہے کہ وزیراعظم میاں نوازشریف کی حکومت نے جنرل راحیل شریف کو 27 نومبر 2013ء کو آرمی چیف مقرر کیا تھا اور انھوں نے اپنے پیش رو جنرل اشفاق پرویز کیانی کی 29 نومبر 2013ء کو ریٹائرمنٹ کے بعد پاک فوج کی قیادت سنبھالی تھی۔

سابق صدر جنرل مشرف نے ازخود اپنی مدت ملازمت میں توسیع کر لی تھی۔وہ کوئی دس سال تک آرمی چیف کے عہدے پر برقرار رہے تھے اور فوجی وردی ہی میں ملک کے صدر بھی بن گئے تھے۔تاہم بعد میں انھوں نے وردی اتار دی تھی اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کو 2007ء میں اپنی جگہ آرمی چیف مقرر کیا تھا۔

2008ء میں منعقدہ عام انتخابات کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والی پیپلزپارٹی کی حکومت نے 2010ء میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کردی تھی اور تب پی پی پی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ فیصلہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا تھا مگر اب انہی وجوہ کی بنا پر جنرل راحیل شریف نے مدت ملازمت میں توسیع لینے سے انکار کردیا ہے۔وہ اپنے دونوں پیش روؤں کے نقش قدم پر چلنے کو تیار نہیں ہوئے ہیں اور وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تسلسل کا معاملہ اپنے بعد آنے والی عسکری قیادت کو سونپنا چاہتے ہیں۔