.

کوئٹہ میں FC کی گاڑی کے قریب دھماکا خودکش

چھے ایف اسی اہلکاروں سمیت دس افراد جاں بحق، چالیس زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ #بلوچستان کے دارالحکومت #کوئٹہ میں ایک خودکش بم دھماکے میں قانون نافذ کرنے والے کم سے کم چھ افراد سمیت دس افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کی شام شہر میں لیاقت پارک کے قریب پیش آیا اور اس وقت یہاں سے فرنٹیئر کور کی ایک گاڑی بھی گزر رہی تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں 6 ایف سی اہلکاروں سمیت 10 افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اطراف کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور اس کی آواز دور دور تک سنی گئی جب کہ دھماکے کے نیتجے میں سیکیورٹی فورسز کی 3 گاڑیاں اور ایک رکشہ بھی تباہ ہوا۔ امدادی ٹیموں نے بروقت پہنچ کر زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کردیا جب کہ زخمیوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے بھی 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا یہ واقعہ خودکش حملہ تھا، حملہ آورسائیکل پر سوار تھا اور خود کو سکیورٹی فورسزکی گاڑی سے ٹکرا دیا، جس کے نتیجے میں 10 افراد شہید ہوئے جب کہ دھماکےمیں 10 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا۔

دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف کی کوئٹہ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کو کٹہرے میں لایاجائے۔ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی نے بھی دھماکے کی مذمت کی ہے۔

ادھر وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے ورثا اور زخمیوں کے لیے امداد کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے 10 لاکھ، شدید زخمی افراد کے لیے 5 اور معمولی زخمیوں کے لیے ایک لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔