.

پاکستان نے ایران سے پابندیاں اٹھا لیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت ایران پر عائد پابندیاں اُٹھا لی ہیں۔ یہ پابندیاں اقوام متحدہ کی قرار داد ’2231‘ کے تحت ایران پر لگائی گئی تھیں۔

ایران سے پابندیاں اٹھانے کے بارے میں لائحہ عمل کو حتمی شکل پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں ہونے والے ایک بین الوزارتی اجلاس میں دی گئی۔

وزارت خزانہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس ضمن میں وزارت خارجہ کی طرف سے باقاعدہ ’نوٹیفکیشن‘ جاری ہونے کے بعد بین الوزارتی اجلاس میں پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی روابط کی بحالی کے علاوہ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، بینکنگ اور توانائی کے شعبے میں تعاون کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا۔

عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی تہران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق رپورٹ کے بعد امریکہ اور یورپی یونین نے ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ طویل مذاکرات کے بعد ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان گزشتہ سال ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت تہران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے اقدامات کیے تھے۔

عالمی طاقتوں کا مؤقف تھا کہ ایران جوہری پروگرام کو ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، لیکن تہران کا کہنا تھا کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی طرف سے سخت تعزیرات عائد ہونے کے بعد کئی عالمی بینکوں نے ایران میں اپنی سرگرمیاں ختم کر دی تھیں جس کے باعث پاکستان کے ایران سے بینکاری تعلقات منقطع ہو گئے تھے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت شدید متاثر ہوئی تھی۔

عالمی تعزیرات کے خاتمے کے بعد پاکستانی عہدیدار کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران سے بینکاری تعلقات کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کرنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے ایران کی بندرگاہ چابہار سے پاکستان کی بندرگار گوادر تک ریلوے لائن بچھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔