.

600 پاکستانی شیعہ بشار کی طرف سے لڑے: فضل الرحمن

پاکستانی حکومت، فوج اور عوام سعودی عرب کے شانہ بشانہ ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"انصار الامہ" تنظیم کے امیر اور تحریک "دفاع حرمین شریفین" کے سربراہ مولانا فضل الرحمن خلیل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عوام اور علماء کرام سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں اور آج مملکت کو خطے کے بعض ممالک بالخصوص ایران کی جانب سے جن شدید حملوں کا سامنا ہے اس کے لیے ہم مملکت کے شانہ بشانہ ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ "سعودی عرب نے ہمیشہ سے پاکستان کا ساتھ دیا ہے.. اور اب پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت آگیا ہے"۔

مولانا فضل الرحمن نے جو ان دنوں سعودی دارالحکومت ریاض میں ہیں کہا کہ پاکستانی عوام اور حکومت دونوں اس خطرے سے آگاہ ہیں جو خطے میں ایران کی بے جا مداخلت کے سبب مشرق وسطیٰ بالخصوص حرمین شریفین کو درپیش ہے۔ اس موقع پر انہوں نے سعودی عرب میں "شمال کی گرج" فوجی مشقوں اوراسلامی فوجی اتحاد کی تشکیل کو بھی سراہا جس نے مسلمانوں کو "القاعدہ" اور "داعش" جیسی انتہا پسند دہشت گرد تیظیموں کی قتل و غارت گری کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا۔

مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب اور حرمین شریفین کے امن وامان کو درپیش خطرے کے حوالے سے سرکاری اور عوامی موقف میں مطابقت کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگرچہ پہلے حکومت کو ہچکچاہٹ تھی تاہم آج حکومت، فوج اور عوام سب ہی سعودی عرب کی پالیسی کی حمایت میں ایک صف میں ہوگئے ہیں"۔

مولانا فضل الرحمن کے مطابق پاکستان کی نمائندہ سنی اکثریت پاکستان کی بعض شیعہ جماعتوں اور شخصیات میں ایرانی مداخلت اور رسوخ کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان کے شیعہ فرقے نے سعودی موقف کی سپورٹ سے انکار کر دیا اور نمر النمر کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کے بعد اس نے فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کی بھی کوشش کی تاہم یہ تمام کوششیں ناکام ہو گئیں"۔

پاکستان کی بعض جماعتوں اور گرپوں میں ایرانی رسوخ کے بارے میں "انصار الامہ" تنظیم کے امیر کا کہنا تھا کہ " تیس برس قبل اسلامی انقلاب کے ساتھ ہی ایران کی جانب سے سیاسی، ثقافتی اور ذرائع ابلاغ کی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستانی معاشرے میں سرائیت کی کوششیں شروع ہوگئیں تھیں.. پاکستانی حکومت نے بعض شیعہ جماعتوں اور گروپوں کی نگرانی شروع کردی جن کے ایران کے ساتھ سیاسی تعلق کی تصدیق ہوچکی تھی.. یہ جماعتیں ایران کے بغیر کچھ نہیں کرسکتیں اگرچہ اس کے باوجود بھی کامیاب نہ ہوئیں"۔

انہوں نے پاکستان کے بعض علاقوں بالخصوص بلوچستان میں ایرانی پاسداران انقلاب کے زیرانتظام گروپوں کی موجودگی کا بھی اشارہ دیا۔ "پاسداران انقلاب نے یمن میں حوثیوں کو تیار کرنے میں جو کردار ادا کیا بالکل اسی کردار کی اس نے پاکستان میں بھی کوشش کی تاہم اسے پوری طرح منہ کی کھانی پڑی.. اور وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اس کی وجہ پاکستان کی حکومت اور علماء دین کے سخت اور مضبوط موقف کے ساتھ ساتھ عوام کا یکسر مسترد کرنا بھی ہے"۔

مولانا فضل الرحمن کے مطابق سیکڑوں شیعہ پاکستانی شام میں بشار الاسد اور اس کو سپورٹ کرنے والی ملیشیاؤں کی صفوں میں شامل ہوکر لڑرہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ " 600 کے قریب شیعہ پاکستانیوں نے شام میں لڑائی کے لیے بشار الاسد کی صفوں میں شمولیت اختیار کی"۔

دوسری جانب تحریک دفاع حرمین شریفین کے سربراہ نے القاعدہ اور ایران کے درمیان دوستانہ تعلقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ " القاعدہ تنظیم پر ایرانی اثر و رسوخ کسی پر بھی مخفی نہیں بلکہ یہ چمکتے سورج کی طرح روشن اور عیاں ہے"۔ ان کا کہنا تھا کہ آج القاعدہ اور داعش کے جنگجوؤں کی آمد ورفت کا واحد راستہ ایران سے گزر کر افغانستان کے ذریعے ہے۔

جہاں تک تحریک طالبان پاکستان کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمن خلیل نے باور کرایا کہ مستقبل قریب میں زوال پذیر ہوکر ختم ہوجائیں گے.. ان کو باقی رکھنے میں اصل کردار ان مالی رقوم کا ہے جو وہ اپنی پشت پر کھڑی بیرونی قوتوں سے حاصل کرتے ہیں.. یہ ہی قوتیں ان کو مال اور ہتھیار فراہم کرتی ہیں۔