.

پشاور: سرکاری ملازمین کی بس میں دھماکا، 15 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں بدھ کی صبح ایک بس میں ہونے والے دھماکے سے پندرہ افراد جاں بحق اور دو درجن سے سے زائد زخمی ہو گئے۔

پولیس حکام کے مطابق یہ بس مردان سے سرکاری ملازمین کو لے کر آ رہی تھی کہ جیسے ہی پشاور کے تھانہ غربی کے سامنے پہنچی تو اس میں زور دار دھماکا ہوا۔

سرکاری ٹی وی نے پشاور کے ایس ایس پی آپریشنز عباس مجید مروت کے حوالے سے بتایا کہ دھماکا خیز مواد بس کے اندر نصب تھا۔ پولیس اور امدادی کارکن فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔

دھماکے سے بس کو خاصا نقصان پہنچا اور اسی باعث زخمیوں کو بس سے نکالنے میں امدادی کارکنوں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔

بتایا جاتا ہے کہ بس پر سول سیکریٹریٹ کے ملازمین پشاور آتے ہیں اور دھماکے کے وقت اس پر لگ بھگ پچاس افراد سوار تھے۔

سکیورٹی فورسز نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے لیا اور تفتیش کاروں نے یہاں سے شواہد جمع کرنا شروع کیے۔

قبائلی علاقوں سے ملحقہ صوبہ خیبر پختونخواہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں پر تشدد واقعات روز کا معمول رہے ہیں۔

لیکن گزشتہ دو برسوں کے دوران شدت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے باعث مہلک واقعات میں ماضی کی نسبت کمی دیکھی گئی ہے۔

اب بھی تشدد کے اکا دکا واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جنہیں حکام عسکریت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا ردعمل قرار دیتے ہیں۔