.

سابق صدر پرویز مشرف دبئی پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت ملنے کے بعد کراچی سے دبئی پہنچ گئے ہیں۔ پرویز مشرف جمعہ کی علی الصباح کراچی سے ایمریٹس ایئر لائن کی پرواز سے دبئی پہنچے ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق صدر دبئی میں جہاز سے بغیر کسی سہارے کے اترے اور وہ پرسکون تھے، ہوائی اڈے پر ان کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے ایک دو درجن کارکنوں انہیں خوش آمدید کہنے ہوائی اڈے پر موجود تھے۔

مشرف کی بیرون ملک روانگی سے قبل کراچی میں ان کی رہائش گاہ اور ایئر پورٹ کے باہر سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے تھے۔ سابق صدر سنہ 2013 میں خود ساختہ جلاوطنی ختم کرتے ہوئے عام انتخابات میں حصہ لینے کے غرض سے پاکستان واپس آئے تھے۔

دبئی روانگی سے قبل پرویز مشرف نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ’میں ایک کمانڈو ہوں اور مجھے اپنے وطن سے پیار ہے، میں چند ماہ یا مہینوں میں واپس آ جاؤں گا۔‘

حکومتی اجازت

جمعرات کے روز پاکستان کے وزیر داخلہ نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کی حکومت نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی باضابطہ اجازت دے دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہا کہ حکومت نے سابق صدر پرویز مشرف کو عدالتی فیصلہ کے بعد ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے تاہم ان کے خلاف عدالتوں میں زیرسماعت کیس ابھی موجود رہیں گے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے سابق صدر پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ [ای سی ایل] میں رکھنے کے لیے ہر سطح پر عدالت سے رجوع کیا مگر پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے کیا ہے اور اس کے بعد حکومت کے پاس اپیل کرنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ پرویز مشرف کے وکلا نے ان کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کی درخواست دی ہے اور حکومت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ سابق صدر بیرون ملک علاج کے لیے چار سے چھ ہفتے کے لیے جائیں گے اور واپس آ کر اپنے خلاف موجود مقدمات کا سامنا کریں گے۔

اُن کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ پرویز مشرف علیل ہیں اور اُن کے موکل کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنا علاج کرا سکیں۔

یاد رہے سندھ ہائی کورٹ نے 2014ء میں پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ دیا تھا، جس کے خلاف وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی، لیکن بدھ کو وفاقی حکومت کی درخواست کو خارج کر دیا گیا تھا۔

حکومتی اعلان پر سیاسی اور سماجی حلقے ملے جلے تاثرات کا اظہار کر رہے ہیں۔ حکومت مخالف سیاسی جماعتیں پرویز مشرف کو زیر سماعت مقدمات کے باوجود بیرون ملک جانے کی اجازت کو قانون اور دستور کی عملداری کے لئے کھلا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔