.

یومِ پاکستان پر تینوں مسلح افواج کی قوت کا شاندار مظاہرہ

دہشت گردی کی لعنت ختم کرکے پاکستان کو مضبوط بنانے کے عزم کی تجدید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج نے ''یومِ پاکستان'' اس عزم کی تجدید کے ساتھ منایا ہے کہ دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ کرکے ملک کو پائیدار اقتصادی ترقی اور سیاسی استحکام کے ذریعے مضبوط بنایا جائے گا۔

آج کا دن 23 مارچ 1940ء کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں منظور کردہ قرارداد کی یاد میں منایا جاتا ہے۔اس قرارداد میں مسلمانان برصغیر نے اپنے لیے الگ وطن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔اس کی منظوری کے سات سال کے بعد 14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔

یومِ پاکستان کی سب سے اہم تقریب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تینوں مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ تھی۔وزیراعظم میاں نواز شریف ،صدر ممنون حسین ،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف ،بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکاء اللہ ،فضائیہ کے سربراہ ائیر مارشل سہیل امان اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف پریڈ کے موقع پر موجود تھے۔

پریڈ کے دوران تینوں مسلح افواج کے چھاتا برداروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور وہ قومی پرچم اور تینوں مسلح افواج کے پرچم لیے زمین پر بہ حفاظت اترے۔انھوں نے دس ہزار فٹ کی بلند سے چھلانگ لگائی تھی اور وہ پچیس ہزار فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

آرمی ایوی ایشن اور پاکستان ائیرفورس کے مختلف لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے فلائی پاسٹ کیا اور حاضرین کو مختلف فضائی کرتب دکھائے۔آرمی ایوی ایشن کے فلائی پاسٹ کے دستے میں چینی ساختہ زیڈ-10 لڑاکا ہیلی کاپٹر ،ای ایچ-1 کوبرا لڑاکا ہیلی کاپٹر ،پوما ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر اور ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر شامل تھے۔آرمی ایوی ایشن کے فلائی پاسٹ کے بعد پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر اور ایف 16 لڑاکا طیاروں پر مشتمل ''شیردلوں'' نے کرتب دکھائے۔

پاکستان آرمی ،پاک فضائیہ ،پاک بحریہ ،فرنٹیئر کور اور پاکستان رینجرز کے چاق چوبند دستوں نے مارچ پاسٹ کیا اور صدرِ پاکستان ممنون حسین کو سلامی دی۔پریڈ میں ناردرن لائٹ انفینٹری ،مجاہد فورس ،اسلام آباد پولیس ،تینوں مسلح افواج کی خواتین افسروں ،تینوں مسلح افواج کی نرسنگ سروسز ،گرلز گائیڈ ،بوائز اسکاؤٹس اور تینوں مسلح افواج کے اسپیشل سروسز گروپ ،آرمڈ کور ،آرٹلری ،آرمی فضائی دفاع ،سگنلز ،انجنیئیرز کور ،آرمی اسٹریٹجک فورس کمانڈ اور صدارتی محافظوں کے دستے شریک تھے۔

پاکستان آرمی کے الضرار اور الخالد ٹینکوں نے بھی مہمان خصوصی صدر ممنون حسن کو سلامی دی۔اس موقع پر صدر نے تقریر کرتے ہوئے پاکستان آرمی کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کو سراہا۔انھوں نے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں اور جنگجوؤں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرزمین سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

انھوں نے پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اس کے جوہری اثاثے ملک کے دفاع کے لیے ہیں اور وہ کسی بھی ملک کے خلاف جنگ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔انھوں نے کہا:''ہم ایک پُرامن قوم ہیں اور ہم نے کبھی اسلحے کی دوڑ میں حصہ نہیں لیا''۔

ان کا کہنا تھا کہ''یہ پریڈ ہمارے اس عزم کی مظہر ہے کہ ہم اپنے پیارے وطن کے تمام دشمنوں سے لڑیں گے۔ ہتھیاروں اور مہارت کے اس مظاہرے سے ظاہر ہوگیا ہے کہ ہماری مسلح افواج بہادری ،حوصلے اور دلیری میں کسی سے کم نہیں ہیں''۔

یومِ پاکستان کی پریڈ کے موقع پر وفاقی دارالحکومت اور اس کے جڑواں شہر راول پنڈی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔دونوں شہروں میں سہ پہر تین بجے تک موبائل فون سروس بند رکھی گئی ہے۔ملک کے دوسرے شہروں اور علاقوں میں بھی کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔اسلام آباد میں دن کا آغاز اکتیس توپوں کی سلامی اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں اکیس اکیس توپوں کی سلامی سے ہوا تھا۔