.

حسن روحانی پاکستان کے پہلے دورے پر اسلام آباد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران كے صدر ڈاکٹر حسن روحانی وزیر اعظم نواز شریف كی دعوت پر دو [2] روزہ دورے پر پاکستان پہنچے۔ ایران کے صدر ڈاكٹر حسن روحانی كا یہ پہلا دورہ پاكستان ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی کا استقبال وزیراعظم نوازشریف نے راولپنڈی کی نورخان ایئربیس پر پرتپاک خیر مقدم کیا گیا اور انہیں 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ اس موقع پر ایرانی كابینہ كے اراكین و دیگر اعلیٰ حكام اور تاجروں كا اعلیٰ سطح کا وفد بھی ان كے ان کے ہمراہ ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران گیس پائپ لائن منصوبہ پاک ایران تعلقات سمیت علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان، ایران کیساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ ایران سے اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ خوش آئند ہے۔ بعد ازاں پاک ایران وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوں گے۔

اسلام آباد میں اپنے قیام كے دوران حسن روحانی صدر ممنون حسین اوروزیر اعظم نواز شریف كے ساتھ ملاقاتیں كریں گے جن میں پاكستان اور ایران كے درمیان دو طرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور بالخصوص ایران پر عائد پابندیاں ہٹائے جانے كے بعد تعاون میں اضافے كے امكانات سمیت تمام اہم امور زیر غور آئیں گے۔

دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی صدر كے دورے سے دونوں ممالک كے درمیان تعلقات مزید بہتر ہوں گے جب کہ ایرانی صدر کے دورے میں علاقائی و عالمی امورپر بھی بات چیت کی جائے گی۔

یاد رہے کہ ایرانی صدر ایک ایسے موقع پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں کہ جب ایک دن قبل ہی بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' کا ایک حاضر سروس افسر گرفتار کیا گیا ہے۔

گزشتہ روز بھوشن یادیو کے پاسپورٹ دکھائے جانے کے بعد بھارتی دفتر خارجہ نے کل بھوشن یادیو کو بھارتی بحریہ کا اہلکار تسلیم کر لیا لیکن یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کل یادیو بھوشن بھارتی بحریہ سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی تھی۔ اس کے بعد بھارتی حکام کا کبھی بھوشن سے رابطہ نہیں رہا۔

بھوشن کے پاسپورٹ پر ایران کے ویزے بھی لگے ہوئے ہیں، جس کے بعد پاکستان نے اس معاملے میں مزید تحقیقات کے لئے تہران سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔