.

اسلام آباد میں صورت حال قابو میں رکھنے کے لیے فوج طلب

ڈی چوک میں ممتاز قادری کے حامیوں کا پُرتشدد احتجاج ،صورت حال قابو سے باہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومتِ پاکستان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن وامان کی صورت حال قابو میں رکھنے کے لیے فوج طلب کر لی ہے۔

صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے مصلوب قاتل ممتاز قادری کے چہلم کے موقع پر ہزاروں افراد نے اتوار کو اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راول پنڈی میں احتجاجی ریلی نکالی ہے۔وہ شام کے وقت اسلام آباد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے ریڈ زون میں تمام رکاوٹوں کو ہٹاتے ہوئے داخل ہوگئے اور انھوں نے وہاں رکھے کنٹینروں کو آگ لگادی تھی۔

بعض اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے میں دس ہزار کے لگ بھگ افراد شریک ہوئے ہیں۔انھوں نے ڈی چوک میں پارلیمان کی عمارت کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا ہے اور مقررین نےاس موقع پر اشتعال انگیز تقاریر کی ہیں۔اس سے پہلے پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکےاور لاٹھی چارج کیا تھا۔پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں اور ان میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

مشتعل مظاہرین نے اسلام آباد میں چائنہ چوک میں میٹرو بس کے ایک اسٹیشن کو بھی نذر آتش کردیا۔مظاہرین کے پرتشدد احتجاج سے صورت حال کںٹرول سے باہر ہونے کے بعد حکومت نے فوج کو طلب کر لیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ پاک فوج کے دستے ڈی چوک میں پہنچ گئے ہیں۔

قبل ازیں اتوار کی صبح راول پنڈی کے لیاقت باغ میں قریباً پچیس ہزار افراد ممتاز قادری کے چہلم میں شرکت کے لیے جمع ہوئے تھے۔انھوں نے پھر وہاں سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کردیا۔اس موقع پر سیکڑوں پولیس اہلکار اور پیراملٹری فورسز کے دستے بھی ان کے ساتھ تھے۔حکام نے ہجوم کو اسلام آباد کے حساس علاقوں کی جانب جانے سے روکنے کے لیے کئی راستوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا تھا۔

پاکستانی میڈیا نے ممتاز قادری کے چہلم کی خبر کو مکمل طور پر نظر انداز کیا تھا اور حکومت کی خاموش ہدایات کے پیش نظر اس تقریب کی کوریج نہیں کی لیکن ریڈ زون میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کے بعد اکا دکا ٹی وی چینلز نے پُرتشدد مظاہرے کی کوریج شروع کردی۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو راول پنڈی کی اڈیالہ جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔مصلوب کی نماز جنازہ میں دو سے تین لاکھ افراد نے شرکت کی تھی اور تب سے حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔