.

سعودی عرب سے تعلقات بگاڑنا نہیں چاہتے: روحانی

’عالم اسلام تہران اور ریاض میں صلح کرائے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب عالم اسلام کا سواد اعظم ہیں۔ اس لیے تہران کبھی بھی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات خراب نہیں چاہے گا۔ انہوں نے تہران اور سعودی عرب کے درمیان پائے جانے والے اختلافات جلد دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی’ارنا‘ کے مطابق پاکستان کے دورے کے اختتام پر اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حسن روحانی نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان سمیت دوسرے ملکوں کی مساعی کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کی دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان اختلافات کم کرنے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔

صدر حسن روحانی نے توقع ظاہر کی کہ ایران اور سعودی عرب دوطرفہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں گے اور مستقبل قریب میں دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاض اور تہران کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ امن و استحکام کے بغیرترقی اور رفاہ عامہ کے منصوبے آگے نہیں بڑھائے جاسکتے۔ ہمیں امن و استحکام کے لیے کوئی کسراٹھا نہیں رکھنی چاہیے۔

صدر حسن روحانی نے تسلیم کیا کہ شام کے تنازع کے باعث ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان اختلافی مسائل کےحل کے لیے بات چیت کا کوئی فورم نہیں جس کے باعث دونوں ملک ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں اور گلے شکوے بڑھتے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں کویت سمیت بعض دوسرے ممالک کی جانب سے سعودی عرب اور ایران میں مفاہمت کے لیے ثالثی کی کوششیں کی گئی تھیں۔ سعودی عرب کی جانب سے واضح کر دیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کی بہتری اسی صورت میں ممکن ہے بہ شرطیکہ تہران عرب ممالک میں اپنی مداخلت بند کرے۔

سعودی عرب کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاض کے ایران کے ساتھ اختلافات صرف یہ نہیں کہ تہران اور مشہد میں سعودی سفارت خانے اور قونصل خانے کو جلایا گیا بلکہ یمن، شام، عراق، بحرین، لبنان اور کویت میں ایرانی مداخلت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جو سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے کا موجب بن رہا ہے۔