.

پاناما پیپرز : شریف خاندان نے کچھ غلط نہیں کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاناما پپیرز کے افشاء کے بعد دنیائے سیاست اور کاروبار میں ایک بھونچال برپا ہوگیا ہے۔پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے لیڈر اپنی آف شور کمپنیوں کی تفصیل منظرعام پر آنے کے بعد اب صفائیاں پیش کررہے ہیں۔وزیراعظم میاں نواز شریف کے خاندان نے آف شور کمپنیوں کی ملکیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے۔

پاناما سے تعلق رکھنے والی ایک قانونی فرم موساک فونسیکا کی ایک کروڑ پندرہ لاکھ دستاویزات منظرعام پر آئی ہیں اور ان سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ کس طرح دنیا کی مقتدر اور بااثر شخصیات نے اپنی رقوم کو خفیہ طور پر آف شور رکھا ہوا تھا اور اپنے کاروباروں کو پھیلانے کے لیے آف شور کمپنیاں بنا رکھی تھیں۔

پاکستان کی جن شخصیات کے ناموں کا افشا ہوا ہے،ان میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کے چار بچوں میں سے تین کے نام شامل ہیں۔ان کی بڑی بیٹی مریم نواز شریف اور دوبیٹے حسین اور حسن نواز نے لندن میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ وہ پ؛اناما کی مذکورہ فرم کے زیر انتظام آف شور کمپنیوں کے ذریعے اس کاروبار کے مالک ہیں۔

پاکستان میں تفتیشی رپورٹنگ کے مرکز سے وابستہ صحافی عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ ''نواز شریف بہ ذات خود کسی کمپنی کے مالک نہں ہیں بلکہ ان کے بچوں کے نام پر کمپنیاں ہیں جس کی وجہ سے سوالات پیدا ہوئے ہیں''۔

تفتیشی رپورٹنگ کا یہ مرکز آزاد صحافیوں کے تحقیقاتی کنسورشیم کا حصہ ہے۔اس نے پاناما کی فرم کی دستاویزات کو کھنگالنے میں مہینوں صرف کیے ہیں اور ان کو اتوار کو آن لائن جاری کیا گیا ہے۔عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ ان کی رپورٹ میں دو سو سے زیادہ پاکستانیوں کی نشان دہی ہوئی ہے۔ان میں وکلاء ،ارکان پارلیمان اور عدلیہ کی بعض شخصیات بھی شامل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور حکومت مخالف سیاست دان عمران خان نے قومی احتساب بیورو(نیب) سے وزیر اعظم نوازشریف کے خلاف تحقیقات آغاز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے ٹیکس حکام اور الیکشن کمیشن سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزیراعظم کے خلاف کارروائی کریں۔

وزیراعظم کے بڑے بیٹے حسین نواز نے نجی ٹیلی ویژن چینل جیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خاندان نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''وہ اپارٹمنٹس بھی ہمارے ہیں اور آف شور کمپنیاں بھی ہماری ہیں۔میں نے کبھی کچھ چھپایا ہے اور نہ مجھے ایسا کرنے کی ضرورت ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''یہ کاروبار برطانوی قانون اور دوسرے ممالک میں مروج قوانین کے مطابق ہے۔ آف شور کمپنیوں کے ذریعے غیر ضروری ٹیکسوں سے بچنے کا یہ قانونی طریقہ ہے''۔حسین نواز کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان سے 1992ء میں باہر چلے گئے تھے۔اس لیے وہ ملک میں مقیم شہری نہیں ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستانی ٹیکس قانون یہ کہتاہے کہ ''اگر آپ 138 دن سے زیادہ پاکستان میں نہیں رہ رہے ہیں تو پھر آپ کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے''۔

انھوں نے عمران خان کے قومی احتساب بیورو سے تحقیقات کے مطالبے کے ردعمل میں کہا کہ ''ہم رضاکارانہ طور پر نیب یا پاکستان کے کسی اور عدالتی اور تحقیقاتی ادارے کےروبرو پیش ہونے کو تیار ہیں''۔وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بھی اس الزام کی تردید کی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کے بچوں نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

میاں نواز شریف نے حال ہی میں وزیراعظم کی حیثیت میں غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے لیکن ان کے بارے میں ان نئے انکشافات سے یہ سوالات پیدا ہوسکتے ہیں کہ ان کا اپنا خاندان ملک میں کیوں سرمایہ کاری نہیں کررہا ہے اور اس نے اپنی دولت کیوں بیرون ملک رکھی ہوئی ہے؟

واضح رہے کہ پاکستان کے ارباب اقتدار وسیاست کے بارے میں آئے دن یہ تفصیلات منظرعام پر آتی رہتی ہیں کہ وہ اپنے اثاثے چھپاتے اور ٹیکس ادا نہیں کرتے ہیں۔پاکستان کو اپنی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے بین الاقوامی ساہوکاروں سے کڑی شرائط پر قرض لینا پڑتا ہے اور اس وقت بھی وہ عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) سے چھے ارب ساٹھ کروڑ ڈالرز کا پیکج اقساط کی صورت میں وصول کررہا ہے۔اس کی محاصل سے ہونے والی آمدن کی شرح مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی) کا صرف 11 فی صد ہے اور یہ دنیا کے ممالک میں کم ترین ہے۔

برطانیہ کے محکمہ بین الاقوامی ترقی نے گذشتہ سال ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ پاکستان کے قومی خزانے کو محصولات کی مد میں کم رقوم جمع ہوتی ہیں اور یوں وہ اپنے اخراجات کو بھی پورا نہیں کرسکتا ہے۔

مالیاتی امور کے تجزیہ کار علی نادر کا کہنا ہے کہ ''بعض کیسوں میں آف شور کمپنیوں کا استعمال قانونی ہوتا ہے لیکن اب آمدن کے ذرائع ،ٹیکسوں سے اجتناب ،منی لانڈرنگ اور کرپشن کے خلاف عالمی سطح پر مہم کی وجہ سے شاید سیاست دان اور کاروباری لیڈر اپنا دفاع نہ کرسکیں اور مقامی سطح پر ان کے خلاف تحقیقات شروع ہوسکتی ہیں''۔

درایں اثناء آئس لینڈ کے وزیراعظم نے پاناما پیپرز کے افشاء کے بعد مستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے۔ان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم سگمندر ڈیوڈ گنلاگسن اور ان کی اہلیہ نے کروڑوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کو چھپانے کے لیے ایک آف شور فرم کو استعمال کیا تھا۔اس کے بعد عوامی حلقوں نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا لیکن انھوں نے کورا جواب دے دیا ہے اور کہا ہے کہ ''میں اس معاملے پر عہدہ چھوڑنے پر غور کررہا ہوں اور نہ محض اس وجہ سے عہدہ چھوڑ رہا ہوں''۔