.

قومی اسمبلی میں متنازعہ سائبر کرائم بل منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی نے امتناع برقی (الیکٹرانک) جرائم بل 2015ء کی منظوری دے دی ہے۔اب یہ ایوان بالا سینیٹ سے منظوری کی صورت میں قانون بن جائے گا۔

پاکستان میں اطلاعاتی (انفارمیشن) ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ افراد اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بل کو متنازعہ قرار دے کر مسترد کردیا ہے اور اس پر کڑی تنقید کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ قانون سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ''شتربے مہار'' اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔

یہ بل پہلی مرتبہ جنوری 2015ء میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا لیکن اس پر حزب اختلاف نے شدید اعتراضات کیے تھے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ متعلقہ فریقوں نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد اس کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات کو جائزے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

قائمہ کمیٹی نے ستمبر میں بہ جبر واکراہ سائبر کرائم بل کے مسودے کی منظوری دے دی تھی۔اس کے بعد اس کو قومی اسمبلی میں حتمی منظوری کے لیے پیش کریا گیا تھا لیکن ارکان اسمبلی میں اس کی نقول تقسیم نہیں کی گئی تھیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ مجوزہ بل میں موبائل فون کے کسی صارف (موصول کنندہ) کو اس کی رضامندی کے بغیر ٹیکسٹ پیغام بھیجنے یا سوشل میڈیا پر حکومت کے اقدامات کو بھی جرم قرار دیا گیا تھا اور اس کے مرتکب افراد کو طویل المیعاد قید اور جرمانے کی سزائیں دی جاسکتی ہیں۔اس صنعت سے وابستہ افراد کا بھی کہنا ہے کہ یہ مجوزہ قانون ان کے کاروبار کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

قومی اسمبلی میں منظور کردہ بل کے تحت آن لائن مذہب ،ملک ،اس کی عدالتوں اور مسلح افواج پر تنقید کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مداخلت کرسکتے ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اس بل میں ایسی بہت سی شقیں موجود ہیں جن کی من مانی تشریح کی جاسکتی ہے اور ان کو سنسرشپ اور حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

بل میں شامل ایک شق کے تحت حکومتِ پاکستان اسلام کے تقدس یا پاکستان کی علاقائی خودمختاری ،سلامتی یا دفاع یا دوسری ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات ،امن عامہ یا شائستگی کے نام پر کسی بھی ویب سائٹ تک رسائی روک سکتی ہے لیکن اس امر کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ پاکستان کے دوست ممالک یا جن ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ یا سردمہری کا شکار ہیں،ان کا تعیّن کون کرے گا۔ناقدین نے بل میں موجود مبہم اصطلاحوں اور تعریفوں کی بھی نشان دہی کی ہے جن سے ایک عام شہری کے آزادیٔ اظہار کے حق پر قدغنیں لگ سکتی ہیں۔