.

پاناما لیکس: پاکستانی حکومت عداتی کمیشن کے لئے خط لکھے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت پاناما پیپرز کے منظر عام آںے کے نتیجے میں اپنے خاندان کے اوپر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کے لیے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر عدالتی کمیشن بنانے کی درخواست کرے گی۔

جمعے کی رات کو سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اپوزیشن کو مطمئن کرنے کے لیے عدالتی کمیشن بنانے پر تیار ہیں اور اگر تحقیقات کے نتیجے میں ان پر کوئی الزام ثابت ہوا تو وہ بلا تاخیر گھر چلے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی کمیشن جو بھی سفارشات کرے گا، وہ اسے تسلیم کریں گے۔ لیکن انہوں نے اس موقع پر اپنے سے گھر جانے کا مطالبہ کرنے والے افراد سے سوال کیا کہ اگر کمیشن میں ان پر عاید کیے جانے والے الزامات ثابت نہ ہوئے تو کیا الزام لگانے والے قوم سے معافی مانگیں گے؟

وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے رواں ماہ کے آغاز پر پاناما لیکس کے نتیجے میں اپنے خاندان پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا جسے اپوزیشن کی اکثر جماعتوں نے مسترد کردیا تھا۔

اپوزیشن کی بعض جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ وزیرِاعظم الزامات کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوں جب کہ بعض دیگر جماعتیں الزامات کی تحقیقات سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم کمیشن سے کرانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔