.

ٹرمپ خود مختار ممالک سے معاملہ کرنا سیکھیں: وزیرداخلہ

پاکستان امریکا کی کالونی نہیں،ڈاکٹر آفریدی کے مستقبل کا فیصلہ عدالتیں کریں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے امریکا کی ری پبلکن پارٹی کے سرکردہ شعلہ بیان امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے متعلق حالیہ بیان کو مسترد کردیا ہے اور انھیں مشورہ دیا ہے کہ وہ خود مختار ممالک سے معاملہ کرنا سیکھیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو وہ پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کو جیل سے رہا کرالیں گے۔ڈاکٹر آفریدی نے پاکستان کے شمالی شہر ایبٹ آباد میں مقیم القاعدہ کے مقتول رہ نما اسامہ بن لادن کی موجودگی کا سراغ لگایا تھا اور اس کے بارے میں امریکی حکام کو آگاہ کیا تھا۔ان کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی ہی میں امریکی سیلز کی ٹیم نے مئی 2011ء میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لیے شب خون کارروائی کی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ سے فاکس نیوز کے نمائندے نے گذشتہ ہفتے انٹرویو کے دوران جب سوال پوچھا کہ کیا وہ شکیل آفریدی کو رہا کرائیں گے تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا :''میرے خیال میں میں اس کو صرف دو منٹ میں رہا کرالوں گے''

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ڈاکٹر آفریدی کو کیسے رہا کرائیں گے تو انھوں نے کہا :'' میں انھیں (پاکستانیوں کو ) کہوں گا کہ اس کو رہا کردیں اورمجھے یقین ہے کہ وہ اس کو رہا کردیں گے اور جیل سے باہر آنے دیں گے''۔

چودھری نثار علی خان نے اس انٹرویو کے ردعمل میں کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے غلط تصورات کے برعکس پاکستان امریکا کی کالونی نہیں ہے۔انھیں خود مختار ممالک سے احترام سے پیش آنے کا سلیقہ سیکھنا چاہیے۔شکیل آفریدی ایک پاکستانی شہری ہے۔کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ہمیں اس کے مستقبل کے بارے میں ڈکٹیٹ کرے۔

انھوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بظاہر گذشتہ کئی برسوں سے امریکا کا ساتھ دینے اور اس کی پالیسیوں کی حمایت کے نتیجے میں پاکستان اور اس کے عوام کی بھاری قربانیوں سے تاریخی طور پر لاعلم لگتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے گذشتہ ہفتے ہی پاکستان کو ایف 16 لڑاکا طیاروں کی خرید کے لیے دیے جانے والے فنڈز دینے سے انکار کردیا ہے۔اب وہ پاکستان کی امداد میں ایک اور کٹوتی پر غور کررہی ہے اور اس مرتبہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے لیے اسلام آباد پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے امدادی رقوم روک دے گی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی پر امریکی حکام سے تعاون کے الزام میں غداری کا مقدمہ چلایا گیا تھا اور انھیں عدالت نے قصور وار قرار دے کر 23 سال قید کی سزا سنائی تھی۔تاہم امریکا میں انھیں ہیرو قرار دیا جاتا ہے۔

جنوری 2014ء میں امریکی صدر براک اوباما نے ایک بل پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ڈاکٹر شکیل آفریدی کی حراست کے معاملے پر امریکا نے تین کروڑ تیس لاکھ ڈالرز کی امداد روک لی تھی۔اسی سال امریکی ایوان نمائندگان نے ایک اور بل کی منظوری دی تھی جس میں پاکستان کے لیے امریکی امداد کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کیا گیا تھا۔اس کے بعد ارکان کانگریس پاکستان کے لیے بجٹ تجاویز سامنے آنے کے بعد سے اس معاملے کو اٹھا رہے ہیں۔