پاکستان: ایف 16 لڑاکا جیٹ کی خرید کے لیے امریکا کی شرائط مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان نے ایف 16 لڑاکا طیاروں کی خرید کے لیے امریکا کی پیشگی شرائط مسترد کردی ہیں۔

پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ایف 16 لڑاکا جیٹ کی خریداری کا مقصد انھیں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں استعمال کرنا تھا۔اس لیے اس معاہدے کے ساتھ کوئی شرائط عاید نہیں کی جانی چاہییں''۔

قبل ازیں امریکا کے محکمہ خارجہ نے گذشتہ ہفتے پاکستان کو بتایا تھا کہ اس کو ان لڑاکا جیٹ کی خرید کے لیے اپنے وسائل استعمال کرنا ہوں گے۔

گذشتہ ماہ امریکی کانگریس نے پاکستان کو ایف 16 لڑاکا جیٹ کی فروخت کے لیے معاہدے میں زر تلافی دینے کی تجویز مسترد کردی تھی اور اس نے ایسا پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنے تحفظات کی بنا پر کیا تھا۔

کانگریس نے پاکستان سے افغانستان کے طاقتور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں مدد دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

پاکستان اور امریکا کے درمیان آٹھ ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت کے لیے گذشتہ سال اکتوبر میں معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے تحت پاکستان نے 27 کروڑ ڈالرز ادا کرنا تھے اور باقی رقم امریکا کے غیرملکی فوجی امدادی فنڈ میں سے ادا کی جانا تھی.

اعزاز چودھری نے کہا کہ اوباما انتظامیہ کو اصل معاہدے کی شرائط کی پاسدارای پر آمادہ کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں کیونکہ پاکستان کے پاس ان لڑاکا طیاروں کی تمام لاگت ادا کرنے کے لیے رقم نہیں ہے۔ان طیاروں کی مالیت ستر کروڑ ڈالرز سے زیادہ بنتی ہے۔

سیکریٹری خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اگر رقوم کا بندوبست نہیں ہوتا تو پاکستان اپنی ضروریات کے مطابق کسی دوسرے ملک سے بھی لڑاکا طیاروں کی خرید پر غور کرسکتا ہے۔

گذشتہ سال ستمبر میں پاکستان نے روس سے چار مگ 17 لڑاکا جیٹ خرید کیے تھے اور اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان مزید دفاعی معاہدے طے پاسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں