.

پاناما لیکس: تحقیقات کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے پاناما پیپرز کے انکشافات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام سے متعلق شرائط وضوابط وضع کرنے کی غرض سے حکومت اور حزب اختلاف کی ایک مشترکہ کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔

وہ پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی سے سوموار کو خطاب کررہے تھے۔انھوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ''اپریل میں پاناما پیپرز کے نام سے میڈیا میں ایک رپورٹ چھپی تھی۔اس میں آف شور کمپنیوں کے قیام میں ملوّث متعدد پاکستانیوں کے نام آئے تھے اور میرے دو بیٹوں کے نام بھی آئے تھے جو گذشتہ کئی برسوں سے بیرون ملک مقیم ہیں اور قانونی کاروبار کررہے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''میری جماعت کے بعض ارکان نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اپنی پوزیشن واضح نہ کروں کیونکہ میرا براہ راست اس میں نام نہیں آیا ہے۔انھوں نے مجھے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک غیرجانبدار کمیشن کے قیام کا مشورہ دیا تھا''۔

وزیراعظم نے کہا:''میں عدلیہ میں یقین رکھتا ہوں۔حتیٰ کہ ریٹائرڈ ججوں پر بھی لیکن بعض لوگوں نے مخالفانہ ردعمل کا اظہار کیااور انھوں نے ان ججوں کی شہرت کو بھی داغدار کرنے کی کوشش کی۔پھر انھوں نے ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کیا''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ان کی حکومت نے ان کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کے اعتماد کے حامل ایف آئی اے کے افسروں کو تحقیقات کے لیے نامزد کیا مگر اس تجویز کو بھی رد کردیا گیا۔پھر انھوں نے اعلیٰ عدلیہ کی سربراہی میں کمیشن کا مطالبہ کیا۔ہم نے اس پر بھی اتفاق کیا مگر پھر انھوں نے شرائط وضوابط (ٹی او آرز) کے ایشو کو متنازعہ بنا دیا۔اس میں کسی کو شک نہیں ہوگا کہ حزب اختلاف کی جانب سے تجویز کردہ شرائط وضوابط کا مقصد میرا احتساب ہے۔یہ مضحکہ خیز بات ہے کہ جس شخص کا پاناما پیپرز میں نام ہی نہیں ہے،اس کو اپنے بارے میں وضاحت کرنے کے لیے کہا جائے''۔

میاں نواز شریف نے اپنی اس تقریر میں مزید کہا کہ'' میں اور میرے وزراء احتساب سے خوف زدہ نہیں ،ہم نے ماضی میں بھی انتخابی احتساب کا سامنا کیا ہے۔میں ہرقسم کے کرپٹ لوگوں اور بدعنوانیوں کی تحقیقات چاہتا ہوں۔بہ شمول ان لوگوں کے جنھوں نے کک بیکس لیے اور اپنے قرضے معاف کرائے''۔

انھوں نے کہا کہ'' آج جو لوگ بنگلوں میں رہتے اور ہیلی کاپٹروں میں سفر کرتے ہیں،وہ مجھ پر غلط روی کا الزام عاید کرتے ہیں،کیا وہ قوم کے سامنے یہ وضاحت کرسکتے ہیں کہ انھوں نے یہ تمام دولت کیسے کمائی اور کتنا ٹیکس ادا کیا''۔

وزیراعظم کے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے موقع پر حزب اختلاف کے ارکان نے کوئی گڑ بڑ نہیں کی اور وہ خاموشی سے ان کی باتیں سنتے رہے۔البتہ اس کے بعد انھوں نے ایوان کا بائیکاٹ کردیا اور کہا کہ وزیراعظم نے بے مقصد تقریر کی ہے۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے وزراء نے بعد میں نیوز کانفرنس میں حزب اختلاف کے ایوان سے واک آؤٹ کو غیر ذمے دارانہ فعل قراردیا ہے۔وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ واک آؤٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اختلاف کے پاس وزیراعظم کی تقریر پر کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔

وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ''عمران خان آف شور فرموں کے بانی ہیں اور وہ اس معاملے سب سے تجربے کار پاکستانی سیاست دان ہیں۔وہ ایک طرف تو غیرملکیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتے ہیں اور دوسری جانب خود خیراتی رقوم سے بھی بیرون ملک کاروبار کررہے ہیں''۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے وزیراعظم کی تقریر کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید ابہام پیدا کردیے ہیں۔انھوں نے حزب اختلاف کے دوسرے لیڈروں کے ساتھ پارلیمان کے باہر نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''ہم نے وزیراعظم سے سات معصومانہ سوال پوچھے تھے اور ان کے ایسے ہی جوابات چاہتے تھے لیکن وزیراعظم کی تقریر نے ان سوالات کو سات سے بڑھا کر ستر کردیا ہے''۔