.

ملا منصور کو ایران سے واپسی پرنشانہ بنایا گیا

طالبان سربراہ پاکستانی شہریت پر ٹیکسی ذریعے سفر کررہے تھے :ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی حکام نے اطلاع دی ہے کہ ہفتے کے روز پاک ۔ افغان سرحد کے قریب امریکی ڈورن حملے میں ہلاک ہونے والے جس شخص کو طالبان کمانڈر ملا اختر منصور قرار دیا گیا، اسے ایران سے پاکستان میں داخل ہوتے وقت نشانہ بنایا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور محمد ولی کے ایک فرضی نام کے ساتھ پاکستانی شہریت پر ایک ٹیکسی کے ذریعے ایران سے افغانستان میں داخل ہو رہے تھے۔

ادھر افغان انٹیلی جنس حکام نے ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ملا منصور کو پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں ہلاک کیا گیا۔ قبل ازین امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ملا اختر منصور کو بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے کے ذریعے نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا تھا اور کہاتھا کہ یہ حملہ کامیاب رہا ہے جس میں ملا منصور کی ہلاکت کا غالب امکان ہے۔

پاکستان نے اپنی حدود میں امریکی ڈرون کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی سالمیت کے خلاف قرار دیا ہے۔

پاکستانی حکام کے ایک ذریعے نے خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ہفتے کے روز جس شخص کو امریکی ڈرون طیاروں نے بلوچستان میں حملے کا نشانہ بنایا وہ محمد ولی کے فرضی نام اور پاکستانی شہریت پر سفر کررہے تھے کہ احمد وال شہر کے قریب انہیں ہلاک کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں ایران داخلے کا ویزہ 28 مارچ 2016ء کو جاری کیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ ملا منصور کے ساتھ ہلاک ہونے والا کار ڈرائیور بھی ایک اہم جنگجو تھا۔ دونوں مقتولین کی میتیں کوئٹہ کے ایک اسپتال میں منتقل کی گئیں جہاں عجلت میں ان کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد انہیں ورثا ء کے حوالے کردیا گیا ہے۔

طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے کے نتیجے میں دونوں مقتولین کی میتیں ناقابل شناخت ہوگئی تھیں۔