.

پاک افغان سرحدی کشیدگی، فائرنگ سے 13 زخمی، کرفیو نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں واقع پاک افغان سرحد طورخم پر دونوں ممالک کی مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ کئی گھنٹے جاری رہنے والی فائرنگ کے نتیجے میں تین سکیورٹی اہلکار اور دو بچوں سمیت تیرہ شہری زخمی ہوئے ہیں۔ان زخمیوں کو پاکستان کے قبائلی علاقے لنڈی کوتل کے ایک فوجی ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے، جہاں انہیں طبی امداد دی جاری ہے۔

دوسری جانب طورخم کی پولیٹیکل انتظامیہ نے سرحد کے قریب علاقہ خالی کرتے ہوئے مقامی افراد کو محفو ظ مقام پر پہنچا دیا ہے جبکہ سکیورٹی کی وجہ سے آس پاس کے علاقوں میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے عوام کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔دونوں ممالک کے مابین کشید گی میں اضافے کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ اور ایکسپورٹ امپورٹ کے ٹرکوں کو بھی واپس پشاور بھیج دیا گیا۔

پاکستان فوج کے ترجمان ادارے "آئی ایس پی آر" کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستانی حکام طورخم کے مقام پر اپنی طرف غیر قانونی نقل و حمل اور عسکریت پسندوں کی آمد ورفت پر نظر رکھنے کے لیے گیٹ بنا رہے تھے، جب افغاں سکیورٹی فورسز نے بلا اشتعال پاکستانی حدود میں مارٹر گولے پھینکنا شروع کر دیے، جس کے نتیجے میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔

فوج کے ترجمان کے مطابق، ’’طورخم دونوں ممالک کے مابین اہم ترین گزرگاہ ہے، جسے اکثر عسکریت پسند بھی پاکستان میں داخلے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت نے طورخم کے راستے بغیر دستاویزات کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے لیکن افغان حکام کو اس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔‘‘

پاکستانی حکام طورخم سرحد پر اپنی ہی حدود میں گیٹ تعمیر کررہا ہے، جس کی تعمیر پر افغانستان کے بعض حلقے خوش نہیں ہیں۔ اسی طرح سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سرحد پر خار دار تار لگانے پر بھی افغان حکام کو اعتراض ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحد چوبیس سو کلومیٹر طویل ہے جبکہ طورخم کا راستہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کچھ عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں، انہیں بہتر بنانے کے لیے پاکستان نے ایک اور اہم سرحدی علاقے انگور اڈہ چیک پوسٹ افغان حکام کے حوالے کی تاکہ سکیورٹی کے نظام کو موثر بنایا جا سکے تاہم افغانستان کے بھارت اور ایران کے قریب آنے کے بعد ان تعلقات میں سرد مہری کے بعد اب کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور بات فائرنگ کے تبادلے تک پہنچ چکی ہے۔ یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کرچکی ہے، جب پاکستان میں قیام پذیر تین ملین قانونی اور غیر قانونی افغان مہاجرین کی واپسی کی مدت میں تین ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔