.

''شمالی وزیرستان:جنگجوؤں سے امریکی ہتھیار پکڑے گئے''

آپریشن ضرب عضب میں 490 فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا: ڈی جی آئی ایس پی آر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دوسرے جنگجو گروپوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے دوران امریکی ساختہ ہتھیار پکڑے تھے اور اس کارروائی میں میں 490 فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔آپریشن کے دوران شمالی وزیرستان کے بیشتر علاقوں کو جنگجوؤں سے پاک کردیا گیا ہے اور صرف دشوار گذار وادی شوال میں چند ایک علاقے ابھی تک کلئیر نہیں کرائے جاسکے اور وہاں کارروائی جاری ہے۔

یہ بات پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل ،لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے آپریشن ضرب عضب کو دو سال پورے ہونے پر ایک نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے جنگجوؤں کے خلاف اس بڑی کارروائی میں حاصل ہونے والی اہم کامیابیوں کی تفصیل بیان کی ہے۔

جنرل باجوہ نے بتایا کہ ابتدائی طور پر 3600 مربع کلومیٹر کا علاقہ کلئیر کیا گیا تھا۔اس کے بعد آپریشن کے دوران مزید علاقے جنگجوؤں سے پاک کیے گئے ہیں اور فاٹا اور شمالی وزیرستان میں 4304 مربع کلومیٹر کا علاقہ کلیئر کرا لیا گیا ہے۔جنگجوؤں کی 992 خفیہ کمین گاہوں کو تباہ کردیا گیا ہے اور 253 ٹن دھماکا خیز مواد پکڑا گیا ہے۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ نے آپریشن سے قبل کی صورت حال کے بارے میں بتایا کہ شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کی بھرتی جاری تھی اور وہاں سے ملک بھر میں خودکش جیکٹس تقسیم کی جارہی تھیں مگر اس کو کنٹرول کرلیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اب وادی شوال میں چند ایک پاکٹس رہ گئی ہیں۔دتہ خیل اور شوال میں گھنے جنگل اور چوٹیوں کی وجہ سے بعض علاقوں کو کلئیر نہیں کرایا جاسکا ہے۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ نے بتایا ہے کہ فورسز نے جنگجوؤں کے قبضے سے جدید ہتھیار برآمد کیے ہیں اور وہ انھوں نے امریکی فوجیوں سے چھینے تھے یا ان سے چرائے تھے۔انھوں نے کہا کہ مسلح افواج اور مقامی قبائل نے دہشت گردوں کے قلع قمع کرنے میں بے پایاں قربانیاں دی ہیں۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام اب بھی ایک چیلنج ہے۔افغانستان کے ساتھ صرف صوبہ خیبر پختونخوا کی ساڑھے تیرہ سو کلومیٹ؛ر طویل کھلی اور دشوار گذار سرحد ہے اور اس پر صرف آٹھ سرحدی گذرگاہیں واقع ہیں۔ان کے انتظام کو بہتر بنانا اور وہاں پیراملٹری فورسز کی تعیناتی ایک بڑا چیلنج ہے۔

انھوں نے بتایا کہ آپریشن سے قبل افغانستان کی حکومت سے کہا گیا تھا کہ شمالی وزیرستان میں ایک بڑی کارروائی شروع کی جارہی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ جنگجو اب افغانستان کا رخ کریں گے ،اس لیے ان کو سرحد پر روکنے کے لیے فوج تعینات کی جائے لیکن افغانستان نے ایسا نہیں کیا اور جنگجو وہاں سے ہوکر خیبر ایجنسی میں منتقل ہوتے رہے تھے اور پھر وہاں ان کے خلاف خیبر اول اور خیبر دوم کے نام سے آپریشن کیے گئے تھے۔