چترال: 31 افراد سیلابی ریلے میں بہ گئے، 7 لاشیں برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع چترال کے بعض علاقوں میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں سیلاب آگیا ہے اور اس ضلع کے علاقے ارسون میں اتوار کے روز اکتیس افراد سیلابی ریلے میں بہ گئے ہیں۔

صوبائی ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بتایا ہے کہ سیلابی ریلے میں بہ جانے والے افراد میں سے سات کی لاشیں مل گئی ہیں اور چوبیس کی تلاش کے لیے امدادی سرگرمیان جاری ہیں۔سیلاب سے علاقے میں ایک مسجد کو نقصان کو پہنچا ہے اور متعدد مکانات بہ گئے ہیں۔

ضلع چترال کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں قائم کنٹرول روم کے مطابق سیلابی ریلے میں 37 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں اور 48 جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں دشواری کا سامنا ہے۔اس نے نیشنل ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے امدادی سرگرمیوں کے لیے ایک ہیلی کاپٹر طلب کر لیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے چترال میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور سیلاب میں گھرے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو تین،تین لاکھ روپے کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ افراد میں خیمے ،کمبل اور راشن تقسیم کیا جارہا ہے۔

درایں اثناء پاک فوج نے چترال میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی ہیں اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ارسون سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکالے گئے چار زخمیوں کو ضلعی ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں