.

چترال: 40 افراد سیلابی ریلے میں بہ گئے، 7 لاشیں برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع چترال کے بعض علاقوں میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں سیلاب آگیا ہے اور اس ضلع کے گاؤں ارسون میں اتوار کے روز چالیس افراد سیلابی ریلے میں بہ گئے ہیں۔

صوبائی ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بتایا ہے کہ سیلابی ریلے میں بہ جانے والے افراد میں سے سات کی لاشیں مل گئی ہیں اور چوبیس کی تلاش کے لیے امدادی سرگرمیان جاری ہیں۔ سیلاب سے علاقے میں ایک مسجد کو نقصان کو پہنچا ہے اور متعدد مکانات بہ گئے ہیں۔

ضلع چترال کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں قائم کنٹرول روم کے مطابق سیلابی ریلے میں 37 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں اور 48 جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں دشواری کا سامنا ہے۔اس نے نیشنل ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے امدادی سرگرمیوں کے لیے ایک ہیلی کاپٹر طلب کر لیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے چترال میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور سیلاب میں گھرے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو تین،تین لاکھ روپے کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ افراد میں خیمے ،کمبل اور راشن تقسیم کیا جارہا ہے۔

درایں اثناء پاک فوج نے چترال میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی ہیں اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ارسون سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکالے گئے چار زخمیوں کو ضلعی ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔