.

انسانیت کے مسیحا عبدالستار ایدھی کراچی میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں انسانیت کی خدمت کو بام عروج پر پہنچانے والے عالمی شہرت یافتہ سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا ہے۔

عبدالستار ایدھی جمعہ کی شب طویل علالت کے بعد اٹھاسی سال کی عمرمیں انتقال کرگئے تھے۔ان کی نماز جنازہ ہفتے کو نماز ظہر کے بعد کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ادا کی گئی ہے جس میں ان کے ہزاروں مداحوں اور اعلیٰ سول اور فوجی قیادت نے شرکت کی۔

ان کی نماز جنازہ میں پاکستان کے صدر ممنون حسین ،آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان ،کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار،پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ ،وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ، اعلیٰ سول اور فوجی عہدے دار اور مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات سمیت زندگی کے تمام طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنےوالے لوگوں نے شرکت کی ہے۔

نماز جنازہ کے موقع پر پاک فوج کے چاق چوبند دستے نے ان کی میت کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور انیس توپوں کی سلامی دی۔اس کے بعد ان کی میت تدفین کے لیے ایدھی ویلج لے جائی گئی جہاں مرحوم نے پچیس سال قبل خود اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر تیار کی تھی۔ان کی تدفین کے بعد بھی مسلح افواج کے دستے نے سلامی دی اور ان کی قبر پر پھول چڑھائے۔

انسانیت کے اس محسن کی نیشنل اسٹیڈیم میں نماز جنازہ اور بعد ازاں تدفین کے موقع پر کراچی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اسٹیڈیم کے اندر اور اس کی جانب جانے والی شاہراہوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سیکڑوں اہلکاروں کے علاوہ پاک فوج کے دستے بھی تعینات تھے۔

نیشنل اسٹیڈیم میں داخلے کے لیے عوام اور وی آئی پی شخصیات کے لیے الگ الگ گیٹ مقرر کیے گئے تھے اور شہریوں کو گیٹ نمبر چار ،پانچ ،چھے اور آٹھ سے داخل ہونے کی ہدایت کی تھی اور وی آئی پی اور وی وی آئی پی شخصیات کا گیٹ نمبر ایک اور دو سے داخلہ ہوا تھا۔

دکھی انسانیت کے لیے خدمات

عبدالستار ایدھی نے تمام زندگی دکھی انسانیت کی خدمت میں بسر کی تھی۔ قدرتی آفات ہوں،حادثات یا دہشت گردی کے واقعات ،وہ اور ان کے کارکنان زخمیوں کو اٹھانے،انھیں اسپتال منتقل کرنے ،متاثرین کی دل جوئی اور امداد کے لیے سب سے پہلے اور ہمہ وقت موجود ہوتے تھے۔سرد وگرم موسم بھی ان کے عزم واستقلال کی راہ سماجی کام کی راہ میں حائل نہیں ہوتے تھے اور وہ بلا تفریق مذہب و نسل تمام بنی نوع انسان کے دکھوں کے مداوے کے لیے ہر جگہ پہنچ جاتے تھے۔

مرحوم نے قیام پاکستان کے بعد خود کو انسانیت کی خدمت کے وقف کردیا تھا۔انھوں نے ایدھی ٹرسٹ کے نام سے ادارہ بنایا۔اس وقت یہ ادارہ ایدھی فاؤنڈیشن کی شکل میں دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل ہے اور اس پاکستان بھر میں شہر شہر ،قریہ قریہ مراکز موجود ہیں جہاں ایمبولینس کسی بھی ناگہانی واقعے کی صورت میں دستیاب ہوتی ہیں۔اس وقت ایدھی کی ایمبولینس سروس ملک کی سب سے بڑی سروس ہے۔

مولانا عبدالستار ایدھی کے کام اور انسانیت کی خدمت نوازی کی وجہ سے لوگ ان پر اندھا اعتماد کرتے تھے اور اپنے عطیات ،زکوٰۃ اور صدقات سے ان کی سارا سال مدد کرتے رہتے تھے۔انھوں نے ہر طرح کے مصیبت زدوں کی مدد کی۔بے سہارا بچیوں اور یتیموں کا سہارا بنے ،ان کی پرورش کی،انھیں تعلیم دلائی۔ان کے لیے یتیم خانے قائم کیے۔ان کی شادی کا بندوبست کیا۔ضعیف العمر افراد کے لیے مراکز قائم کیے۔مراکز صحت قائم کیے۔

لیکن اتنی عظیم خدمات کے باوجود انھوں نے ساری زندگی سادہ طریقے سے گزاری۔ان کا رہن سہن ،کھانا پینا،لباس سب کچھ سادہ ہوتا تھا۔انھوں نے ساری زندگی کراچی میں اپنے دفتر کے اوپر ایک کمرے کے فلیٹ میں گزاری۔ان کے پاس کپڑوں کے صرف دو جوڑے ہوتے تھے۔ان ہی کو وہ خود دھو کر پہنتے تھے۔انھوں نے اپنی جمع پونجی ،لوگوں کے عطیات ۔اپنا وقت اور صلاحیتیں ایدھی فاؤنڈیشن کی نذر کردی تھیں۔

ان کے بیٹے فیصل ایدھی کے بہ قول :''ان کی خواہش تھی کہ انھیں اسی لباس میں دفن کیا جائے جس کو پہنتے تھے۔وہ اپنے تمام اعضاء بھی عطیہ کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے صرف قرنیا کو عطیہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کے باقی اعضاء صحت مند حالت میں نہیں رہے تھے اور ناکارہ ہوچکے تھے''۔

عبدالستار ایدھی کے گردے 2013ء میں ناکارہ ہوگئے تھے اور ان کی کمزور صحت کی بنا پر ان کی پیوند کاری نہیں ہوسکی تھی۔وہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی میں زیر علاج رہے تھے۔انھوں نے حکومت اور سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے بیرون ملک علاج کی پیش کش کو قبول کرنے سے انکار سے کردیا تھا اور تادم آخر اپنے ملک ہی میں رہنا پسند کیا تھا۔ان کا یہ رویہ اپنے وطن سے اٹوٹ محبت کا آئینہ دار تھا۔انھوں نے پسماندگان میں چار اولادیں اور بیوہ بلقیس ایدھی سوگوار چھوڑی ہیں۔ان کی اہلیہ بھی ساری زندگی ان کے ساتھ انسانیت کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہی ہیں۔

مرحوم کو پاکستان میں ایک قومی ہیرو اور لیجنڈ کا درجہ حاصل تھا اور ہر کوئی چھوٹا ہو یا بڑا ،سیاست دان ہویا عام آدمی ،ان کی بے پایاں عزت کیا کرتا تھا۔ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں انھیں حکومتِ پاکستان نے نشان امتیاز سے نوازا تھا۔انھیں عالمی سطح پر بھی متعدد ایوارڈز اور انعامات عطا کیے گئے تھے۔ان میں رامون میگاسیسے ایوارڈ ،لینن امن انعام اور بلزان پرائز نمایاں ہیں۔

نوبل امن انعام کے لیے دو مرتبہ ان کا نام تجویز کیا گیا تھا لیکن ناروے کی نوبل امن کمیٹی نے نامعلوم وجوہ کی بنا پر انھیں اس انعام سے محروم رکھا تھا لیکن اگر نوبل امن کمیٹی مرحوم عبدالستار ایدھی کو نوبل امن انعام سے نوازتی تو اس سے خود اس انعام کی قدر واہمیت بڑھ جاتی اور اس کے وقار میں اضافہ ہوتا کیونکہ مرحوم کی دکھی انسانیت کے لیے خدمات اتنی زیادہ ہیں اور ان کا کردار ایسا بلند تھا کہ انھیں ایسے کسی دنیاوی انعام کی تو ضرورت ہی نہیں تھی۔

مرحوم عبدالستار ایدھی کی اپنی اہلیہ بلقیس بیگم کے ساتھ ایک یاد گار تصویر۔ فائل
مرحوم عبدالستار ایدھی کی اپنی اہلیہ بلقیس بیگم کے ساتھ ایک یاد گار تصویر۔ فائل