.

پاکستان: حزب المجاہدین کشمیر کے کمانڈر کے ماورائے عدالت قتل کی مذمت

کشمیری حریت پسند کی شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران جھڑپیں ،18 ہلاک ،200 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے بھارت کے زیر انتظام ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر میں سرکردہ حریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر برہان وانی کے ماورائے عدالت قتل کی مذمت کردی ہے۔اس واقعے کے ردعمل میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں اٹھارہ افراد ہلاک اور دوسو زخمی ہو گئے ہیں۔

برہان وانی جمعہ کو بھارتی فوجیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارے گئے تھے۔ریاست کے ڈائریکٹر جنرل پولیس کے راجندر نے کہا ہے کہ فوجیوں نے ایک خفیہ اطلاع کے بعد کشمیر کے جنوبی علاقے ککرناگ میں جنگل میں گھرے ایک گاؤں میں کارروائی کی تھی۔فائرنگ کے تبادلے میں حزب المجاہدین کے دو اور کارکنان بھی شہید ہوئے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''کشمیری لیڈر برہان وانی اور متعدد دوسرے بے گناہ کشمیریوں کا ماورائے عدالت قتل قابل افسوس اور قابل مذمت ہے''۔

ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں اور اس سے جموں وکشمیر کے عوام کی حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد میں کمی نہیں آئے گی اور نہ ان کا اس حق کے مطالبے کے لیے عزم متزلزل ہوگا۔

نفیس زکریا نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری قیادت کی گرفتاریوں اور نظربندیوں پر پاکستان کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت کشمیر سے متعلق اپنے وعدوں کو بھی پورا کرے۔

واضح رہے کہ بائیس سالہ برہان وانی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی فوجی مداخلت کے خلاف مسلح جدوجہد میں پیش پیش تھے اور گذشتہ پانچ سال کے دوران وہ اس مسلح مزاحمت کا ایک نمایاں کردار بن چکے تھے۔وہ ایک اسکول ہیڈ ماسٹر کے بیٹے تھے۔وہ آن لائن اپنے ویڈیو پیغامات پوسٹ کرتے رہتے تھے جس میں وہ ایک فوجی وردی میں ملبوس نظر آتے تھے۔وہ ریاست پر بھارتی حکمرانی کے خلاف نوجوانوں کو اٹھ کھڑا ہونے کے لیے اپنی تحریک میں شمولیت کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔

بھارتی حکام نے برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر کے بیشتر علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کردیا ہے لیکن اس کے باوجود مختلف شہروں اور قصبوں میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ریاستی حکومت نے مظاہروں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے انٹرنیٹ اور موبائل فون نیٹ ورکس کو منقطع کردیا ہے۔

ان احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں گذشتہ دو روز میں مرنے والوں کی تعداد اٹھارہ ہوگئی ہے اور دو سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔پولیس اور نیم فوجی دستوں نے بعض علاقوں میں مظاہروں اور مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لیے براہ راست گولیاں چلائی ہیں اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں جس سے زیادہ تر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

مہلوکین میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔حکام کے مطابق مشتعل مظاہرین نے اتوار کو جنوبی ضلع سنگم میں پولیس کی ایک بکتربند گاڑی کو دریا میں دھکا دے دیا تھا جس کے نتیجے میں اس میں سوار ایک اہلکار ہلاک ہوگیا ہے۔مظاہرین نے کشمیر کے جنوبی علاقوں میں پولیس تھانوں اور فوج کی بعض چوکیوں پر بھی حملے کیے ہیں۔ ایک حکومتی ترجمان نعیم اختر نے کہا ہے کہ ''مظاہرین کو اپنے احتجاج کو اس سطح تک نہیں لے جانا چاہیے کہ ایک بندوق پکڑنے والا شخص ان پر گولی چلانے پر مجبور ہوجائے''۔

بھارتی سکیورٹی فورسز کے زخمیوں کا علاج کرنے والے اسپتالوں اور زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس گاڑیوں پر حملوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔انسانی حقوق کے ایک گروپ جموں کشمیر اتحاد برائے سول سوسائٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اسپتالوں اور ایمبولینسوں پر حملے عالمی انسانی قانون کے تحت ایک جرم ہیں اور بھارت کی مسلح افواج پر بار بار اس جرم کے مرتکب ہونے کے الزامات عاید ہوتے رہتے ہیں''۔