پاکستان کے بڑے شہروں میں جنرل راحیل شریف کے حق میں پوسٹر بازی

غیر معروف جماعت کی آرمی چیف کو منتخب حکومت کے خلاف فوجی انقلاب برپا کرنے کی ترغیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایک غیر معروف جماعت نے بڑے شہروں میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تصاویر والے پوسٹرز آویزاں کردیے ہیں۔ان میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں فوجی انقلاب برپا کرکے اقتدار پر قابض ہوجائیں اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل حکومت تشکیل دیں۔

''موو آن پاکستان'' نامی اس غیرمعروف جماعت نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ،راول پنڈی ،لاہور ،کراچی اور پشاور سمیت تیرہ شہروں میں پوسٹرز آویزاں کیے ہیں۔اس کی عبارت کے الفاظ یہ ہیں:''جانے کی باتیں ہوئیں پرانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کے لیے اب آ جاؤ''۔ساتھ جنرل راحیل شریف کی ایک بڑی تصویر لگائی گئی ہے۔پوسٹر کے نیچے موبائل فون نمبر بھی دیے گئے ہیں۔

اس تحریک کے چیف آرگنائزر علی ہاشمی نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''آمریت موجودہ بدعنوان حکومت سے کہیں بہتر ہے۔جنرل راحیل شریف نے جس طرح دہشت گردی اور بد عنوانی کا مقابلہ کیا ہے،اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ان کے بعد آنے والا شخص بھی ان کی طرح مؤثر ثابت ہوگا''۔

واضح رہے کہ جنرل راحیل شریف کی بطور آرمی چیف تین سالہ مدت نومبر میں ختم ہوگی۔وہ اس سال جنوری میں اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ اپنی ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے اور مقررہ تاریخ کو ریٹائر ہوجائیں گے۔وزیراعظم نواز شریف نئے آرمی چیف کو نامزد کرنے پر غور کررہے ہیں اور توقع ہے کہ اس حوالے سے وہ ستمبر تک کوئی فیصلہ کر لیں گے۔

وزیر اطلاعات پرویز رشید نے جنرل راحیل شریف کو اقتدار پر قبضے کی ترغیب دینے والے پوسٹروں کو بے وقوفی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے لوگ بے وقوف ہیں اور وہ ملک کا بھلا نہیں چاہتے ہیں۔انھوں نے پوسٹروں کے ردعمل میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق گفتگو قبل از وقت ہے۔

پنجاب کے بعض شہروں اور اسلام آباد میں راتوں رات لگنے والے یہ پوسٹرز انتظامیہ نے اتار دیے ہیں۔حزب اختلاف پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اعتزاز احسن دور کی کوڑی لائے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ اس پوسٹر بازی کے پیچھے حکومت کا ہاتھ کارفرما ہے تاکہ حزب اختلاف کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ان کا مقصد غیر یقینی کی صورت حال پیدا کرنا ہے۔

موو آن پاکستان پارٹی تین سال قبل قائم کی گئی تھی اور یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ہاں رجسٹر ہے۔یہ جماعت اس سے قبل بھی جنرل راحیل شریف کے حق میں بڑے شہروں میں اشتہار بازی اور پوسٹربازی کرچکی ہے۔قبل ازیں لگائے پوسٹروں میں جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرکے کہا گیا تھا کہ ''جانے کی باتیں اب جانے دو''۔صنعتی شہر فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک کاروباری محمد کامران اس جماعت کے چئیرمین ہیں۔وہ فیصل آباد ،سرگودھا اور لاہور میں تعلیم کا کروبار کرتے ہیں۔وہ متعدد اسکول اور دوسرے کاروبار چلاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں