پاکستان: بین کی مون کی تنازع کشمیر پرمذاکرات میں ثالثی کی پیش کش کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کی جانب سے بھارت کے ساتھ تنازع کشمیر پر امن مذاکرات میں ثالثی کی پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے۔

بین کی مون نے بھارت کے زیر انتظام ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک حریت پسند لیڈر کی بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہادت کے بعد پرتشدد مظاہروں کے بعد دونوں ملکوں میں امن مذاکرات کی ضرورت پر زوردیا ہے اور ان میں ثالثی کی پیش کش کی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں نیوز بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ''یہ اقوام متحدہ کی ذمے داری ہے کہ وہ اس تنازعے میں مداخلت کرے اور اس کو حل کرائے''۔انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو تنازع کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹفین دوجارک نے نیویارک میں نیوبریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ''دونوں ملکوں کے درمیان اچھے اثرورسوخ کو بروئے کار لانے کی پیش کش موجود ہے لیکن سیکریٹری جنرل کی یہ پیش کش اسی وقت کام کرے گی جب دونوں ملک ان کی ثالثی پر متفق ہوں''۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارتی حکومت کے اس موقف کو مسترد کردیا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری بد امنی اس کا داخلی معاملہ ہے۔انھوں نے بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں اور مظالم کی تازہ لہر کی شدید مذمت کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال کو اپنا داخلی معاملہ قرار نہیں دے سکتا۔یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ایک متنازعہ ایشو ہے۔ترجمان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کو بھی مسترد کردیا اور کہا کہ اس ایشو کو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ جمعے کو سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں حریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد سے پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔بھارتی فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں اور فائرنگ کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد چونتیس ہوچکی ہے۔ریاستی حکام نے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے بیشتر علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود کشمیریوں کا احتجاج جاری ہے۔

بھارت کے نیم فوجی دستے اور پولیس اہلکار کشمیر کے شہروں ،قصبوں اور دیہات میں گشت کررہے ہیں۔بیشتر دکانیں اور کاروبار بند ہیں اور ریاستی حکام نے سیل فون سروسز بھی معطل کررکھی ہیں۔بھارتی فورسز کے اہلکار مظاہرین پر قابو پانے کے لیے براہ راست گولیاں اور اشک آور گیس کے گولے چلا رہے ہیں لیکن ان تشدد آمیز کارروائیوں اور کرفیو کے باوجود مظاہرین نے احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے گذشتہ اتوار کو حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کے ماورائے عدالت قتل کی مذمت کی تھی اور کشمیری قیادت اور عوام کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی کشمیریوں کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔بھارت کی خارجہ امور کی وزارت نے پاکستان کے مذمتی بیان کو ملک کے داخلی امور میں مداخلت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان کو کشمیر میں حالیہ بدامنی پر بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں