.

چیف جسٹس سندھ کا بیٹا ٹانک سے بازیاب، اغوا کار ہلاک

بازیابی کے بعد اویس علی شاہ کو میڈیا کے سامنے پیش کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے بیرسٹر اویس علی شاہ ٹانک [خیبر پختونخوا] سے بازیابی کے بعد ڈی آئی خان سے خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی میں اپنے گھر پہنچ گئے۔

اپنے صاحبزادے اویس شاہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ رات 3 بجے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا فون آیا آپ کے بیٹے کو بازیاب کرا لیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے باقی معاملات طے کرکے بیٹے کو گھر پہنچایا۔ اویس علی شاہ کو طیارے میں ٹانک سے کراچی پہنچایا گیا۔ میرا بیٹا خیریت سے ہے، اللہ نے مجھے استقامت اور حوصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹے کی بازیابی میں سارا کردار پاک فوج کا ہے، فوج بھی حکومت پاکستان کا حصہ ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے جسٹس سجاد علی شاہ کو بیٹے کی بازیابی پرمبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسزکی پیشہ ورانہ اور آپریشنل مہارت نے اویس شاہ کی بازیابی کو ممکن بنایا۔

آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی رات بھر آپریشن کی خود مانیٹرنگ کرتے رہے۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کا کہنا ہے کہ آپریشن حساس اور مشکل تھا۔ پیشہ ورانہ مہارت سرعت اور کامیابی سے کیا گیا۔ اصل کامیابی سید اویس علی شاہ کو بحفاظت بازیاب کروانا ہے۔ گورنرسندھ نے جسٹس سجادعلی شاہ کو فون پر مبارکباد دی۔

اغوا کار اویس شاہ کو افغانستان منتقل کرنا چاہتے تھے۔ اغوا کاروں کو سرحد پار ہونے سے پہلے گرفت میں لانے پر پاک فوج کے جوان مبارکباد کے مستحق ہیں۔

بیرسٹر اویس شاہ کیسے بازیاب ہوئے؟

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ کی بازیابی کے لئے آپر یشن پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ آپریشن خفیہ اطلاع پر دہشت گردوں کے خلاف کیا گیا ۔یہ آپریشن ڈی آئی خان سے ٹانک کے راستے میں کیا

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن رات 2 سے ڈھائی بجے کے دوران شروع کیا گیا۔ ٹانک کےقریب مفتی محمودچوک کے پاس تین چیک پوسٹیں قائم کی گئیں۔ نیلے رنگ کی سرف گاڑی کو چیک پوسٹ کے قریب روکنے کی کوشش کی گئی۔ دہشت گرد گاڑی ڈیوائڈر پر چڑھا کر سڑک کے دوسری طرف لے گئے۔

فوجی اسنائپر نے گاڑی کے ڈرائیور کو نشانہ بنایا جس سے وہ ہلاک ہو گیا۔ گاڑی میں سوار تینوں دہشت گرد مارے گئے۔ اغوا کاروں نے فائرنگ کرتے ہوئے بھاگنے کی بھی کوشش کی۔ دہشت گردوں کے پاس سرحد کے قریب چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ دہشت گردوں کی گاڑی میں برقعہ پوش تھا۔ برقع پوش سے شناخت کیلئے بار بار پوچھا گیا۔ جب برقع ہٹایا تو ایک نوجوان جس کے منہ پر ٹیپ لگی تھی برآمد ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 3 روز سے اویس شاہ کی موجود گی کے تکنیکی شواہد تھے۔ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیز کی کوششیں ہیں۔ آئی ایس آئی بازیابی کے آپریشن کو کمانڈ کر رہی تھی۔

جنوبی وزیرستان میں فوجی دستے اور ایف سی تعینات ہے۔ اطلاعات تھیں دہشت گرد اویس شاہ کو مغربی سرحد سے افغانستان لے جانا چاہتے تھے۔ یہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سپلنٹر گروپ تھا۔ اغوا کاروں کی طرف سے مطالبات آئے تھے۔ آپریشنل وجوہات پر مطالبات ظاہر نہیں کر رہے۔ دہشت گردوں کا مقصد دہشت پھیلانا تھا۔

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو بیٹے کی بازیابی کی اطلاع دی گئی۔ اویس شاہ کو خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی پہنچایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن سے دہشت گردی میں کمی نظر آ رہی ہے۔ پاکستان میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں دہشت گرد چھپ سکیں۔ فاٹا میں حکومت کی رٹ بحال ہوچکی ہے۔ آپریشنزمیں دہشت گردوں کےسہولت کار، معاون گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ انٹیلی جنس کی بنیاد پر اور تلاش کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

اویس شاہ اغوا ٹائم لائن

اویس علی شاہ کو 20 جون کو دوپہر 2 سے ڈھائی بجے کے درمیان کلفٹن کے سپر سٹور سے نکلتے ہوئے اغوا کر لیا گیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق سفید رنگ کی کار میں سوار افراد نے ان کو اغوا کیا ۔ واردات کے موقع پر اویس علی شاہ نے مزاحمت بھی کی۔ اویس شاہ کی اپنی کار اسٹور کی پارکنگ سے ملی تھی۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق اغواکاراویس شاہ کو ایس پی 0585 نمبر پلیٹ کی کار میں ڈال کے لے گئے تھے۔ شہر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں نے آخری بار شہید ملت روڈ پر گاڑی کو دیکھا جو ٹیپو سلطان روڈ کی طرف جا رہی تھی۔ اس کے بعد اغوا کاروں کی کار کسی خفیہ کیمرے کی پکڑ میں نہیں آئی۔

آئی جی سندھ نے ابتدائی طور پر اس ہائی پروفائل کیس کو ایس ایس یو کے حوالے کر دیا تھا تاہم بعد میں ڈی آئی جی سی آئی اے سلطان خواجہ کی سربراہی میں 10 رکنی تفتیشی ٹیم تشکیل دے دی گئی تھی۔

ایس ایس یو سمیت کراچی پولیس نے شہر کی ناکہ بندی کر کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ کارروائیوں کیں۔ پولیس نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ اغوا کاروں نے اویس شاہ کو کراچی میں ہی رکھا ہے، تاہم 29 روز بعد اویس شاہ کو پاک فوج نے ٹانک سے کاررراوئی کے دوران بازیاب کرا لیا۔

اویس شاہ کی بازیابی کے لئے سندھ پنجاب سرحد پر بھی سخت چیکنگ شروع کی گئی تھی، تین ایس ایچ او اور چالیس پولیس اہلکار تعینات تھے، لیڈی پولیس اہلکا برقعہ پوش خواتین کا چیک کرتی تھیں، سندھ پنجاب سرحد پر چیکنگ کے دوران مختلف اوقات میں لیڈیز پولیس کو بھی مقرر کیا گیا تھا۔

تیسرا ہائی ہروفائل اغوا

واضح رہے کہ یہ تیسرا ہائی پروفائل اغوا کیس تھا جو حل ہو گیا۔ بیریسٹر اویس علی شاہ سے پہلے سابق وزیر اعظم کے بیٹے علی حیدر گیلانی سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر بھی اغوا کاروں سے چنگل سے بحفاظت واپس گھر پہنچ چکے ہیں۔س

اویس شاہ کا اغوا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں کسی اہم شخصیت کے بیٹے کو اغوا کیا گیا ہو۔ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کو 26 اگست 2011 میں لاہور کے علاقے گلبرک سے اغوا کیا گیا تھا ۔ لاہور کی سی آئی اے پولیس نے اس سلسلے میں 4 ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جنہوں نے شہباز تاثیر کو کالعدم تنظیموں کے حوالے کرنے کا انکشاف کیا تھا۔

پانچ سال بعد سیکورٹی فورسز نے شہباز تاثیر کو اس سال نو مارچ کو بلوچستان کے علاقے کچلاک سے ایک کارروائی کے دوران بازیاب کرا لیا۔

اسی طرح سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے چھوٹے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کو 9 مئی 2013 کو اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ ملتان میں پیپلزپارٹی کی کارنر میٹنگ میں شریک تھے۔ علی حیدر گیلانی کو اس سال 10 مئی کو افغانستان کے صوبے غزنی میں امریکی اور اتحادی فوج نے ایک کارروائی کے دوران بازیاب کرایا تھا۔