.

کراچی : ایم کیو ایم کے وسیم اختر،رؤف صدیقی دہشت گردی کے الزام میں گرفتار

پاک سرزمین کے انیس قائم خانی بھی دہشت گردوں کو مدد دینے کے الزام میں پکڑے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس نے لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے دو رہ نماؤں وسیم اختر اور رؤف صدیقی اور پاک سرزمین پارٹی کے رہ نما انیس قائم خانی کو دہشت گردوں کو پناہ دینے اور انھیں علاج معالجے کی سہولت مہیا کرنے کے الزام میں قائم مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کر لیا ہے۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر دوم کے جج نے منگل کے روز ان تینوں ملزموں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کردی ہیں۔اس کے بعد پولیس نے انھیں عدالت سے پکڑ کر بکتربند گاڑی کے ذریعے جیل منتقل کردیا ہے۔عدالت نے پیپلز پارٹی کے رہ نما عبدالقادر پٹیل کو بھی انہی الزامات کے تحت گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔

ان چاروں پر الزام ہے کہ انھوں نے سابق وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین سے ضیاء الدین اسپتال میں مبینہ دہشت گردوں اور گینگسٹرز کو پناہ دینے اور ان کا علاج کرنے کے لیے کہا تھا۔آج مقدمے کی سماعت کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری عدالت میں تعینات کی گئی تھی۔

عبدالقادر پٹیل قبل ازیں صبح جب مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔انھوں نے بعد میں خود کو پولیس کے حوالے کردیا ہے۔انھوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ جب وہ عدالت میں پہنچے تو اس کے دروازے بند تھے اور چند منٹ انتظار کے بعد وہ واپس آگئے تھے۔انھوں نے پولیس تھانے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت سے بھاگے نہیں تھے،بلکہ وکیل سے مشورے کے لیے گئے تھے۔اس حوالے سے بعض میڈیا چینلز نے غلط رپورٹ کیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خصوصی معتمد ڈاکٹر عاصم حسین اس وقت مختلف مقدمات میں ماخوذ ہیں اور حکام کے زیر حراست ہیں۔ان کے خلاف رینجرز کی درخواست پر اپنے ملکیتی اسپتال کی نارتھ ناظم آباد اور کلفٹن کی شاخوں میں مشتبہ دہشت گردوں ،جنگجوؤں اور گینگسٹروں کا علاج کرنے اور انھیں پناہ دینے کے الزامات میں مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔انھوں نے مبینہ طور پر ایم کیو ایم اور سندھ کی حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی کے بعض لیڈروں کے ایماء پر دہشت گردوں کو طبی خدمات مہیا کی تھیں۔

استغاثہ کے مطابق چار مختلف جماعتوں نے ڈاکٹر عاصم حسین سے پولیس اور رینجرز کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے سیاسی جنگجوؤں ،لیاری وار گینگ کے ارکان اور کالعدم جنگجو تنظیموں کے ارکان کے علاج معالجے کے لیے کہا تھا۔اس ضمن میں کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے پولیس اسٹیشن میں جراِئم پیشہ افراد کو پناہ دینے اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔