.

کراچی : نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے دو فوجی شہید‎

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے صدر میں پاکستان آرمی کی ایک گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو فوجی شہید ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام اور عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے منگل کے روز کراچی صدر کے علاقے میں پاکستان آرمی کی گاڑی پر فائرنگ کی ہے۔دونوں زخمی فوجیوں کو تشویش ناک حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے ہیں۔

جناح اسپتال کے شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمیں جمالی نے بتایا ہے کہ ایک فوجی راستے ہی میں شہید ہوچکا تھا اور دوسرا طبی امداد کے دوران جان کی بازی ہار گیا ہے۔ان دونوں فوجی اہلکاروں کی شناخت لانس نائیک عبدالرزاق اور حوالدار خادم حسین کے نام سے کی گئی ہے۔

حملہ آور ایک موٹر سائیکل پر سوار تھے اور انھوں نے شہر کے بیچوں بیچ گزرنے والی مصروف شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر پارکنگ پلازا کے نزدیک فوجی گاڑی پر فائرنگ کی ہے۔اس کے بعد وہ جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واقعے کے بعد سکیورٹی حکام نے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے۔

کراچی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق مہر نے جائے وقوعہ کے معائنے کے بعد کہا ہے کہ ''ہم اس واقعے اور قبل ازیں ملٹری پولیس کی ایک گاڑی پر فائرنگ میں کسی تعلق کی تلاش کی کوشش کریں گے۔تاہم کوئی خاص خطرہ نہیں تھا''۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فوجیوں پر 9 ایم ایم پستول سے فائرنگ کی گئی ہے۔اب اس امر کی تحقیقات کی جارہی ہے کہ آیا ماضی میں کسی حملے میں یہ ہتھیار استعمال ہوا تھا یا نہیں۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے فوجیوں پر حملے کی مذمت کی ہے اور انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسیوں کو حملہ آوروں کو پکڑنے کے لیے ہر ممکن کارروائی کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بھی پاک فوج کی گاڑی پر فائرنگ کی مذمت کی ہے اور واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے.

یادرہے کہ دسمبر 2015ء میں ایم اے جناح روڈ پر واقع تبت سینٹر کے قریب دو نقاب پوش مسلح افراد نے پاکستان آرمی کی ملٹری پولیس کی گاڑی پر اسی انداز میں 9 ایم ایم پستول سے فائرنگ کی تھی۔اس واقعے میں بھی دو فوجی شہید ہوگئے تھے اور حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو نے میں کامیاب ہو گئے تھے۔