ضلع گھوٹکی میں توہین قرآن کے واقعے کے بعد کشیدگی ،ایک ہندونوجوان قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے صوبے سندھ کے ضلع گھوٹکی میں قرآن مجید کی توہین کے ایک واقعے کے بعد سے فرقہ وار کشیدگی پائی جارہی ہے اور مشتعل افراد کی فائرنگ سے ایک ہندو نوجوان قتل ہوگیا ہے۔

ضلع کے پولیس حکام کے مطابق گھوٹکی کے قصبے میرپور ماتھیلو میں ایک مشتعل ہجوم میں شامل بعض مسلح افراد نے بدھ کے روز ایک ٹی اسٹال پر چائے پینے کے لیے بیٹھے دو ہندو نوجوانوں پر فائرنگ کردی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ان میں ایک سترہ سالہ نوجوان دیوان ستیش اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا ہے اور اس کے ساتھی ایویناش کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

گھوٹکی کے قصبے ڈہرکی کے نزدیک واقع ایک گاؤں مہران سمیجو میں ایک ہندو شخص نے قرآن مجید کے اوراق کی بے حرمتی کی تھی جس کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔اس واقعے کے بعد علاقے کی ہندو کمیونٹی کے مقامی لیڈروں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے جان ومال کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ توہین قرآن کا مرتکب مشتبہ ہندو امر لال نشے کا عادی ہے۔اس نے چند ماہ قبل اسلام قبول کر لیا تھا اور پھر ایک مسجد میں رہنا شروع کردیا تھا۔ان کے بہ قول اس کی ذہنی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے۔

گھوٹکی کے سینیر سپرنٹنڈینٹ پولیس (ایس ایس پی) مسعود احمد بنگش کا کہنا ہے کہ پولیس رینجرز کی مدد سے صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس نے ضلع کے مختلف علاقوں میں چھاپا مار کارروائیوں میں نقضِ امن اور توڑ پھوڑ کے الزام میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ حساس مقامات اور خاص طور پر ہندوؤں کی مکانوں کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔

ڈہرکی ،میرپور ماتھیلو ،اُباڑو اور خان مہر سمیت ضلع کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں بدھ کے روز فرقہ وار کشیدگی کے پیش نظر کاروبار زندگی معطل رہا ہے اور گلیاں ،بازار اور سڑکیں مسلسل دوسرے روز بھی سنسان نظر آئے ہیں۔

ڈہرکی میں منگل کے روز ایک قدیمی مسجد کے باہر قرآن مجید کے چند ایک جلے ہوئے اوراق ملے تھے۔اس کے بعد لوگ میں سخت غم وغصہ اور اشتعال پھیل گیا۔انھوں نے نیشنل ہائی وے پر اکٹھے ہوکر احتجاج شروع کردیا اور وہاں پانچ گھنٹے تک دھرنا دیے رکھا۔وہ ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے تھے۔اس کے بعد ڈہرکی کی پولیس نے مشتبہ ملزم کو حراست میں لے لیا تھا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔

ضلع کے دوسرے قصبوں میں بھی اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی لوگوں سڑکوں پر نکل آئے اور قرآن مجید کی بے حرمتی کے خلاف مظاہرے کیے۔انھوں نے ٹائر جلائے اور ہندوؤں کی ملکیتی دکانوں کو نذرآتش کرنے کی کوشش کی۔بعض مقامات پر مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔

نزدیک واقع ضلع سکھر کے ایس ایس پی امجد شیخ ڈہرکی میں اپنی ٹیم کے ہمراہ مظاہرین کے پاس پہنچے تھے اور انھیں دھرنا ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس دوران مظاہرین نے ان کی گاڑی پر دھاوا بول دیا اور اس کو نقصان پہنچایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں