.

کوئٹہ : سول اسپتال میں خودکش بم دھماکا،70 افراد جاں بحق

ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار نے خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول ہسپتال میں سوموار کے روز خودکش بم دھماکے میں ستر افراد جاں بحق اور بیسیوں زخمی ہو گئے ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔حملہ آور بمبار نے سول اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں وکلاء کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑایا ہے۔اس وقت وکلاء کی بڑی تعداد بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کے قتل کے بعد وہاں جمع تھی۔انھیں آج صبح ایک اور واقعے میں گولی مار دی گئی تھی۔

بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے صحافیوں کو بتایا کہ اس بم حملے میں مقامی وکلاء اور ان کے نمائندوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس ہلاکت خیز بم حملے کے بعد صوبائی دارالحکومت کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے یہ بم دھماکا اس وقت کیا گیا جب سول ہسپتال کوئٹہ کے باہر بہت سے وکلاء اور صحافی جمع تھے۔صوبائی حکومت کے ذرائع نے صحافیوں کو بتایا کہ بم دھماکے کا نشانہ بننے والے وکلاء سول ہسپتال کے باہر بلال کاسی کی میت وصول کرنے کے لیے جمع تھے۔جاں بحق ہونے والوں میں متعدد وکلاء، عام شہری اور ایک نجی ٹیلی وژن چینل ’آج‘ کا ایک کیمرامین شہزاد خان اور ڈان نیوز کا کیمرامین محمود خان بھی شامل ہے۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے کوئٹہ میں دہشت گردی کے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور اس میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ''کسی کو بھی صوبے کا امن برباد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔یہ امن سکیورٹی فورسز ،پولیس اور بلوچستان کے عوام کی لاتعداد قربانیوں کی بدولت بحال ہوا ہے''۔

صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔