''سراغرساں ادارے ملک دشمنوں کے خلاف دن رات کام کررہے ہیں''

عسکری اور سیاسی قیادت دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے ایک صفحے پر ہے: نواز شریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے سراغرساں ادارے ملک دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے دن رات کام کررہے ہیں۔

وہ کوئٹہ کے سول اسپتال میں دو روز قبل خودکش بم دھماکے کے بعد بدھ کو قومی اسمبلی میں تقریر کررہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ عسکری اور سیاسی قیادت دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے ایک صفحے پر ہے۔

انھوں نے کہا کہ کوئٹہ میں بم حملے کے پیچھے وہی ذہن کارفرما ہے جس نے ماضی میں دہشت گردی کے متعدد حملوں میں پاکستانیوں کو نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''کوئٹہ میں حملے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔اس طرح کا ذہن ملک اور خاص طور پر بلوچستان میں امن نہیں چاہتا ہے۔ہم ان تمام چیلنجز کا مقابلہ کریں گے''۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب ایک متفقہ قومی ایجنڈا ہے اور اس کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔

وزیراعظم کی اس تقریر کے بعد وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے تقریر کرتے ہوئے پارلیمان کے ایوان زیریں کو کوئٹہ میں حملے کے بعد اعلیٰ قیادت کے زیر بحث آنے والے اہم ایشوز سے آگاہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ بیشتر سیاسی جماعتیں سخت قوانین متعارف کرانے کے خلاف ہیں حالانکہ جو لوگ کسی مذہب یا قانون کو نہیں مانتے ہیں،ان کے لیے سخت قوانین کے نفاذ ہی کی ضرورت تھی۔

وزیر داخلہ نے کسی کا نام لیے بغیر پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی ایک روز قبل قومی اسمبلی میں تقریر پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

پختون رہ نما نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعے میں ملوّث عناصر کا سراغ لگانے میں ناکام رہنے والے سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسروں کو برطرف کردیں۔انھوں نے قومی اسمبلی میں کوئٹہ حملے پر بحث کے دوران واقعے کو انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دیا تھا اور اس کے ذمے داروں کے تعیّن کا مطالبہ کیا تھا۔

چودھری نثار علی خان نے انٹیلی جنس ایجنسیوں اور مسلح افواج کے لیے اس طرح کے الفاظ اور ریمارکس کو شرانگیز قراردیتے ہوئے کہا کہ ''کیا ایک پاکستانی کی حیثیت سے میرا یہ فرض نہیں کہ میں مسلح افواج کے ساتھ کھڑا ہوں''۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی نازک صورت حال میں اس طرح کے بیانات بالکل ناقابل قبول ہیں اور پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں پر تنقید کے بجائے (بھارتی) را اور (افغان) این ڈی ایس کی مذمت کی جانی چاہیے۔

کوئٹہ کے سول ہسپتال میں سوموار کے روز خودکش بم دھماکے میں ستر افراد جاں بحق اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار اور داعش نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن بلوچستان کے وزیراعلیٰ سردار ثناء اللہ زہری نے بھارت کی خفیہ ایجنسی را پر دہشت گردی کے اس واقعے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔تاہم واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں