.

داعش کا کمانڈر حافظ سعید خان کون تھا؟

البغدادی کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے طالبان کمانڈر کا احوال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع ’’پینٹاگان‘‘ نے پاکستان اور افغانستان میں سرگرم دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے سربراہ حافظ سعید خان کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ ’ولایت خراسان‘ کے سربراہ حافظ سعید خان کو فضائی حملے میں ہلاک کیا گیا ہے۔

پینٹا گان کے ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات گورڈن ٹروبریڈگ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں العربیہ ڈاٹ نے بتایا کہ حافظ سعید خان کو جنوبی افغانستان کے صوبہ ننگر ہار میں امریکا اور افغان فوج کی مشترکہ کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ولایت خراسان کےسربراہ کو 26 جولائی کو ننگر ہار کے علاقے اشین میں حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مقتول داعشی کمانڈرکے حالات زندگی اور اس کی عسکری کارروائیوں سے متعلق ایک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔

ابتدائی زندگی

حافظ سعید خان سنہ 1972ء کو پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقے ’’اورکزئی ایجنسی‘‘ میں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم ایک مقامی مذہبی رہ نما کے مدرسے ’’مکتب خانہ‘‘ سے حاصل کی۔ بعد ازاں مزید دینی تعلیم کی تکمیل نے شمال مغربی پاکستان کے قبائلی علاقے ہنگو میں دارالعلوم الاسلامیہ میں داخلہ لیا۔

مدرسہ دارالعلوم الاسلامیہ تحریک طالبان پاکستان کے موجودہ ترجمان شہید اللہ شہید کی وجہ سے بھی شہرت حاصل کرچکا ہے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد حافظ سعید خان نے شادی کی۔ اس وقت اس کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

تحریک طالبان کا قیام

سنہ 2001ء میں نائن الیون حملوں کے بعد جب امریکا نے افغانستان میں طالبان حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو طالبان عناصر بھی منتشر ہوگئے۔ اس وقت حافظ سعید خان تحریک طالبان افغانستان میں شامل تھے۔ امریکی یلغار کے بعد انہوں نے افغانستان میں امریکی قبضے کے خلاف مسلح تحریک شروع کردی۔

وہ دو سال تک افغانستان میں مقیم رہے تاہم بعد ازاں اپنے کچھ دیگر ساتھیوں کے ہمراہ دو بار پاکستان آئے اور تحریک طالبان پاکستان [ٹی ٹی پی] کی بنیاد رکھی۔

حافظ سعید خان کو تحریک طالبان پاکستان کے اہم ترین بانی ارکان میں شمار کیاجاتا تھا۔ انہوں نے تنظیم کے قیام کے بعد اپنے آبائی علاقے اورکزئی ایجنسی میں تحریک کی ذمہ داری بھی سنھبالی۔ بیت اللہ محسوس کو طالبان تحریک کا سربراہ مقرر کرنے میں بھی حافظ سعید اور اس کے ساتھیوں کا اہم کردار رہا۔ بیت اللہ محسود نے حافظ سعید کو تحریک طالبان کی شوریٰ کا رکن اور بعدازاں اورکزئی ایجنسی کا کمانڈر تعینات کیا۔

طالبان میں اختلافات

بیت اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان کی قیادت کے معاملے پر طالبان کمانڈروں میں اختلافات پیدا ہوئے جس کے نتیجے میں تنظیم دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک گروپ نے فقیر محمد حکیم محسود کی قیادت میں تنظیم قائم کی اور دوسرے نے ولی الرحمان گروپ کی حمایت شروع کردی۔ دونوں کمانڈر محسود قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ حافظ سعید خان بھی ولی الرحمان گروپ میں شامل ہو گیا۔ نومبر 2013ء کو حکیم اللہ محسود بھی امریکا کے ایک ڈرون حملے میں مارا گیا۔

حکیم اللہ کے قتل کے بعد تحریک طالبان کی قیادت کے حوالے سے کمانڈروں میں ایک نئی دوڑ اور مقابلہ شروع ہوگیا ایک گروپ نے حافظ سعید خان کو طالبان تحریک کا قاید منتخب کرنے کی کوشش کی تاہم آخڑ کار قرعہ فال ملا فضل اللہ کے نام نکلا۔

اعتماد کا فقدان اور داعش کی بیعت

طالبان تحریک میں ہونےوالی ٹوٹ پھوٹ اور کمانڈروں کے باہمی مفادات نے حافظ سعید کے راستے جدا کردیے۔ حافظ سعید خان کی تحریک طالبان سے علاحدگی کا ایک بڑا سبب اس کا پاکستان اور افغان حکومتوں کے ساتھ بات چیت کی سخت مخالفت بھی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ افغان اور پاکستان طالبان تحریکوں کو دونوں ملکوں کی حکومتوں سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کرنی چاہیے۔
یہی وجہ ہے کہ حافظ سعید خان کا تحریک طالبان پاکستان سے اعتماد اٹھ گیا اور اس نے 15 اکتوبر سنہ 2014ء کو پانچ دیگر طالبان کمانڈروں کے ہمراہ طالبان تحریک سے علاحدگی اور جنوری سنہ 2015ء کو داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کے ہاتھ پر بیعت کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی ’’ولایت خراسان‘‘ کے نام پاکستان، بھارت، افغانستان اور بنگلہ دیش کے علاقوں پر مشتمل داعش کی تشکیل کا اعلان کیا۔

جنوری 2015ء کو داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی کی طرف سے ایک ویڈیو فوٹیج جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ ’’ولایت خراسان‘‘ اب داعش کا حصہ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ولایت خراسان تنظیم کے تمام مجاھدین نے ان شرائط اور ضوابط کو تسلیم کرلیا ہے جو داعش پیش کرتی ہے۔ انہوں نے ’’امیر المومین[داعشی خلفیہ] ابو بکر البغدادی کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ البغدادی نے ان کی بیعت قبول کرلی ہے۔ وہاں سے پاکستان اور افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔

داعش کی جانب سے حافظ سعید خان کو والی خراسان[گورنر خراسان] مقرر کیا اور عبدالرؤف خادم المروف ابو طلحہ کو ان کا نائب مقرر کیا گیا۔

حافظ سعید کا انجام

جمعہ 12 اگست 2016ء کو پاکستان میں افغان سفیر عمر زخیل وال نے اعلان کیا کہ داعش کے سربراہ حافظ سعید خان کو ایک کارروائی میں ہلاک کردیا گیا ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ ولایت خراسان کے نام سے مشہور ہونے والی داعش کی ذیلی تنظیم کے سربراہ حافظ سعید خان کو اس کے متعدد ساتھیوں سمیت افغان صوبے ننگر ہار میں 26 جولائی کو امریکا کے ایک بغیر پائلٹ ڈرون طیارے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جس میں وہ ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغان سفیر کے بیان پرایک روز تک امریکا اور افغان حکومت خاموش رہی تاہم گذشتہ روز امریکی محکمہ دفاع نے بھی افغان سفیر کے دعوے کی تصدیق کردی ہے۔