.

آرمی چیف نے 11 دہشت گردوں کو پھانسی دینے کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے گیارہ سخت گیر دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکانے کی منظوری دے دی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ان مجرموں کو فوجی عدالتوں نے دہشت گردی کے مختلف نوعیت کے سنگین مقدمات میں قصور وار قرار دے کر پھانسی کی سزائیں سنائی ہیں۔

بیان کے مطابق مجرمان میں سے بعض کوئٹہ میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس (ڈی آئی جی) فیاض سنبل ،بلوچستان پولیس کے اے ایس آئی رضا خان اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے انسپکٹر کامران نذیر کی شہادت کے واقعے میں بھی ملوّث تھے۔

ان سزایافتہ مجرموں میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں ،اغوا اور شہریوں کی ہلاکتوں، فرنٹئیر کانسٹیبلری کے اہلکاروں اور پاکستان آرمی کے میجر مجید کے قتل میں ملوّث دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ان سب کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے ہیں۔

یہ تمام سزایافتہ مجرمان دہشت گردی سے متعلق سنگین جرائم میں ملوّث رہے تھے۔انھوں نے شہریوں کو قتل کیا تھا،مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے کیے تھے اور اسکولوں اور مواصلاتی ڈھانچے کو تباہ کیا تھا۔ان مجرموں کی تفصیل یہ ہے:

ضیاء الحق ولد ولی خان

یہ مجرم کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا فعال رکن تھا۔یہ خودکش بم حملوں میں ملوّث تھا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں ۔یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوّث تھا جن کے نتیجے میں کوئٹہ میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس (ڈی آئی جی) فیاض سنبل ،بلوچستان پولیس کے اے ایس آئی رضا خان سمیت متعدد اہلکار اور آئی ایس آئی کے انسپکٹر کامران نذیر اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے۔اس نے ایک میجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے روبرو اپنے جرائم کا اقرار کیا تھا۔اس کے خلاف بارہ الزامات میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور عدالت نے اس کو سزائے موت سنائی تھی۔

فضل ربی ولد فضل غفور

یہ مجرم ٹی ٹی پی کا فعال رکن تھا اور شہریوں کی ہلاکتوں میں ملوث رہا تھا۔یہ مسلح افواج پر حملوں میں بھی ملوث تھے جن کے نتیجے میں میجر عابد مجید شہید اور متعدد فوجی زخمی ہوگئے تھے۔اس نے میجسٹریٹ اور ٹرائیل کورٹ کے روبرو اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا۔اس کو چار الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔

محمد شیر ولد زارے

یہ مجرم ٹی ٹی پی کا فعال رکن تھا اور شہریوں کی ہلاکتوں میں ملوث تھا۔یہ مسلح افواج پر حملوں میں بھی ملوث تھا جن کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید اور زخمی ہوگئے تھے۔اس مجرم نے ایک گرلز مڈل اسکول کو تباہ کردیا تھا۔اس نے میجسٹریٹ اور ٹرائل عدالت میں اپنے جرائم کا اقرار کیا تھا اور اس کو پانچ الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔

عمر زادہ ولد گل رحمان

یہ مجرم ٹی ٹی پی کا فعال رکن تھا اور شہریوں کی ہلاکتوں میں ملوث تھا۔یہ مسلح افواج پر حملوں میں بھی ملوث تھا جن کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید اور زخمی ہوگئے تھے۔اس نے اپنے قبضے میں دھماکا خیز مواد کی موجودگی کا اعتراف کیا تھا۔اس نے میجسٹریٹ کے روبرو اور ٹرائل عدالت میں اپنے جرائم کا اقرار کیا تھا اور اس کو تین الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔

لطف الرحمان ولد سیف الرحمان

یہ مجرم ٹی ٹی پی کا فعال رکن تھا۔یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج پر حملوں میں ملوّث رہا تھا جن کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید اور زخمی ہوگئے تھے۔اس کو آتشیں ہتھیار اور دھماکا خیز مواد رکھنے کے الزام میں بھی قصور وار قرار دیا گیا تھا۔اس نے میجسٹریٹ کے روبرو اور ٹرائل عدالت میں اپنے جرائم کا اقرار کیا تھا اور اس کو پانچ الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔

محمد عادل ولد محمد اکبر جان

یہ مجرم ٹی ٹی پی کا فعال رکن تھا۔یہ ایف سی کے فوجیوں کے اغوا اور انھیں قتل کرنے کی وارداتوں میں ملوث تھا۔اس مجرم نے مٹہ (سوات) میں ایک پولیس تھانے کو بھی دھماکے سے تباہ کردیا تھا۔اس کے قبضے سے آتشیں ہتھیار اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا تھا۔اس نے میجسٹریٹ اور ٹرائل عدالت میں اپنے جرائم کا اقرار کیا تھا اور اس کو پانچ الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔

اسرار احمد ولد عبدالرحیم جان

یہ مجرم بھی ٹی ٹی پی کا فعال رکن تھا۔یہ مسلح افواج پر حملوں میں ملوّث تھا جن کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید اور زخمی ہوگئے تھے۔اس مجرم نے ایک گرلز پرائمری اسکول اور پاکستان ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن ( پی ڈی ٹی سی) کے ایک ہوٹل کو تباہ کردیا تھا۔اس نے میجسٹریٹ اور ٹرائل عدالت میں اپنے جرائم کا اقرار کیا تھا اور اس کو چارالزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔

عبدالمجید ولد خونا مولا

یہ مجرم ٹی ٹی پی کا فعال رکن تھا۔یہ مسلح افواج پر حملوں میں ملوّث رہا تھا جن کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید اور زخمی ہوگئے تھے۔اس مجرم نے پی ٹی ڈی سی کے ایک ہوٹل کی تباہی کے واقعے میں بھی ملوّث تھا۔اس نے میجسٹریٹ اور ٹرائل عدالت میں اپنے جرائم کا اقرار کیا تھا اور اس کو تین الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔

حضرت علی ولد فضل ربی

یہ مجرم ٹی ٹی پی کا فعال رکن تھا اور دھماکا خیز مواد نصب کرنے اور شہریوں کی ہلاکتوں میں ملوّث تھا۔یہ مسلح افواج پر حملوں میں بھی ملوّث رہا تھا جن کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید اور زخمی ہوگئے تھے۔اس نے میجسٹریٹ اور ٹرائل عدالت میں اپنے جرائم کا اقرار کیا تھا اور اس کو پانچ الزامات میں قصور وار قرار دے کر پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔

میاں سعید اعظم ولد میاں سعید جعفر

ٹی ٹی پی کا یہ فعال رکن قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج پر حملوں میں ملوث رہا تھا جن کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید اور زخمی ہوگئے تھے۔اس مجرم نے بچیوں کے ایک اسکول کو تباہ کردیا تھا۔اس نے میجسٹریٹ اور ٹرائل عدالت میں اپنے جرائم کا اقرار کیا تھا اور اس کو پانچ الزامات میں قصور وار قرار دے کر تختہ دار پر لٹکانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

قیصر خان ولد حبیب خان

یہ مجرم بھی ٹی ٹی پی کا فعال رکن تھا۔یہ شہریوں کی ہلاکتوں اور مواصلاتی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے تخریبی واقعات میں ملوّث تھا۔اس نے میجسٹریٹ اور ٹرائل عدالت میں اپنے جرائم کا اقرار کیا تھا اور اس کو دو الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔