کراچی میں نیوز چینل کے دفتر پر حملہ ، ایک ہلاک ،پانچ زخمی

ایم کیو ایم کے رہ نما فاروق ستار اور خواجہ اظہارالحسن رینجرز کے زیر حراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک لسانی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے متشدد مظاہرین نے پولیس کی ایک گاڑی کو نذر آتش کردیا ہے اور ٹیلی ویژن چینل اے آر وائی کے دفتر میں گھس کر فائرنگ کی ہے۔ان کے اس تشدد آمیز احتجاج کے دوران ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

کراچی کے جناح اسپتال کے شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمیں جمالی نے ایک ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اسپتال میں متعدد زخمیوں کو لایا گیا ہے۔

اے آر وائی کا دفتر کراچی صدر کے مصروف کاروباری علاقے زینب مارکیٹ کے نزدیک واقع ہے۔ٹی وی چینل نے الزام عاید کیا ہے کہ مظاہرین تشدد پسند سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم) کے ارکان تھے۔وہ چینل کی عمارت میں گھس گئے اور وہاں موجود عملے پر حملہ کردیا۔

چینل کا کہنا ہے کہ اس جماعت کے لندن میں جلاوطن سربراہ الطاف حسین نے سوموار کو قبل ازیں ایک تقریر میں مظاہرین کو ٹی وی چینلوں کے دفاتر پر حملوں کے لیے اکسایا تھا۔انھوں نے ایک اور ٹی وی چینل سماء کی ڈی ایس این جی وین پر بھی حملہ کیا ہے۔

اے آر وائی کے اینکر کاشف عباسی کا کہنا ہے کہ ''یہ متحدہ کے لوگ ہیں اور الطاف حسین نے انھیں حملے کا حکم دیا تھا۔اس کے بعد دس منٹ ہی میں یہ سب کچھ ہوگیا ہے''۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور ربر کی گولیاں چلائی ہیں جس سے بعض مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔سندھ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انسپکٹر جنرل پولیس نے متشدد حملوں اور اے آر وائی نیوز پر فائرنگ کا نوٹس لے لیا ہے اور شہر بھر میں میڈیا دفاتر کی سکیورٹی بڑھانے کا حکم دیا ہے جبکہ ریڈ زون کو سیل کردیا گیا ہے۔سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

ایم کیو ایم کے کارکنان کے پرتشدد احتجاج اور اے آر وائی چینل پر حملے کے بعد رینجرز نے جماعت کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار اور سندھ اسمبلی میں رہ نما خواجہ اظہار الحسن کو حراست میں لے لیا ہے۔

وہ دونوں کراچی پریس کلب کے باہر رات گئے نیوز کانفرنس کرنے والے تھے۔اس دوران رینجرز کے اہلکاروں وہاں آگئے اور ان سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ رینجرز ہیڈ کوارٹرز چلیں جہاں ان سے ڈی جی میجر جنرل بلال اکبر ملنا چاہتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق ستار نے ابتدا میں تھوڑی مزاحمت کی لیکن بعد میں وہ رینجرز اہلکاروں کے ساتھ جانے پر آمادہ ہوگئے۔

ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے کراچی میں ایم کیو ایم کے پرتشدد احتجاج کے بعد ایک بیان میں شہریوں کو تحفظ کی ضمانت دی ہے اور کہا ہے کہ حملہ آوروں کو اپنی غلط کاریوں کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ کسی کو بھی پُرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں