.

پاکستان کو دہشت گردی مخالف جنگ میں107 ارب ڈالرز کا نقصان

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب میں 3500 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 107 ارب ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے جبکہ پاک آرمی نے شمالی وزیرستان ،شوال اور خیبرایجنسی میں دہشت گردوں اور جنگجو گروپوں کا صفایا کردیا ہے۔

یہ تفصیل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل ،لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے جمعرات کے روز آپریشن ضرب عضب کے بارے میں ایک جامع بریفنگ کے دوران بیان کی ہے۔ پاک فوج نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر حملے کے بعد 15 جون 2014ء کو شمالی وزیرستان میں ضربِ عضب کے نام سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کے خلاف ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔اس کو دو سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے اور اب یہ آخری مراحل میں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ''2014ء میں جب آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا گیا تو اس وقت سکیورٹی کی صورت حال بالکل مختلف تھی۔ملک میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہورہے تھے۔اس سال بارودی سرنگوں کے 311 دھماکے ہوئے تھے،74 حملے کیے گئے تھے 26 خودکش بم دھماکے کیے گئے تھے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ضربِ عضب کے لیے نمایاں آپریشنل رہ نما اصول یہ وضع کیے گئے تھے کہ یہ بلا امتیاز ہوگا ،اس کے دوران ہر ممکن طور پر ضمنی سکیورٹی نقصان سے بچا جائے گا اور انسانی حقوق کا خیال رکھا جائے گا''۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب میں قریباً ساڑھے تین ہزار دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائیوں میں پاک فوج کے 536 جوانوں اور افسروں نے جام شہادت نوش کیا ہے اور 2272 زخمی ہوئے ہیں۔ شمالی وزیرستان کی66 فی صد مقامی آبادی بازیاب کرائے گئے علاقوں کو لوٹ چکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغان حکومت اور نیٹو فورسز نے افغانستان کے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف مناسب کارروائی نہیں کی ہے اور افغان سرحدی علاقے میں مسلح فورسز کی بہت تھوڑی نفری تعینات کی گئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ 26 سو کلومیٹر پاک افغان سرحد پر واقع 18 تمام سرحدی گذرگاہوں پر گیٹ لگائے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''پہلے کوئی بھی شمالی وزیرستان میں جانے کا سوچ نہیں سکتا تھا۔یہ دہشت گردی کا مرکز تھا اور وہاں ایک بڑا مواصلاتی ڈھانچا قائم تھا۔دہشت گردی کے بیشتر واقعات کا کھرا شمالی وزیرستان ہی کی طرف جاتا تھا''۔

انھوں نے بتایا کہ ''آپریشن کے آغاز سے قبل پاکستان نے تمام متعلقہ فریقوں ۔۔۔۔۔۔۔سیاسی ،سفارتی اور فوجی ذمے داروں کو آگاہ کیا تھا۔افغان صدر ،سیاسی حکومت ،فوجی قیادت ،افغانستان میں نیٹو کے تحت امدادی مشن وغیرہ سب کو اس کارروائی کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا اور ان سے یہ درخواست کی گئی تھی اگر دہشت گرد سرحد پار کرکے اس طرف جائیں تو انھیں پکڑنا ہوگا لیکن ایسا نہیں کیا گیا''۔

جنرل عاصم باجوہ نے بتایا کہ شمالی وزیرستان سے اتنی زیادہ مقدارمیں دھماکا خیز مواد ملا تھا کہ اس سے دہشت گرد اکیس سال تک روزانہ پانچ دھماکے کرسکتے تھے اور برآمد ہونے والے مواد سے ایک لاکھ چونتیس ہزار ہلاکتیں ہوسکتی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ دشوار گذار پہاڑی علاقہ ہونے کے باوجود پاک فوج نے شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں سے پاک کرالیا ہے۔اس علاقے میں کارروائی کے بعد دہشت گرد وادی شوال کی جانب چلے گئے تھے۔یہ ان کا آخری مضبوط ٹھکانا تھا مگر شوال میں آپریشن کے دوران ہم نے ہر گاؤں ، ہر گھر ،ہر اسکول اور ہرمسجد کو کلئیر کر لیا ہے اور اب شوال سوئٹزر لینڈ کی طرح ہے، وہاں کے مکین آہستہ آہستہ لوٹ رہے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ فوج وہاں بدستور موجود رہے۔امن وامان کی صورت حال کو مستحکم کرے اور معیشت کو بحال کرے۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ شمالی وزیرستان سے بھاگ کر افغانستان جانے اور وہاں سے خیبر ایجنسی میں آنے والے دہشت گردوں کے خلاف خیبر اول اور خیبر دوم کے نام سے کارروائیاں کی گئی ہیں اور ان میں 900 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں داعش کے پنپنے کی سازش کو ناکام بنا دیا گیا ہے اور انٹیلی جنس کی بنیاد پرکارروائیوں میں اس جنگجو گروپ سے وابستہ 309 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ داعش کے وابستگان اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں حملے کی سازش تیار کررہے تھے لیکن اس کو ناکام بنا دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر 21 ہزار کارروائیاں کی گئی ہیں اور ان کے دوران 1400 مشتبہ افراد کو ہلاک کردیا گیا ہے۔